مذاکراتی عمل خفیہ ہونا چاہئے، میڈیا پر معاملات طے نہیں ہوسکتے، سیاستدان و ماہرین

ویب ڈیسک


اسلام آباد : سیاستدانوں اور ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مذاکراتی عمل بند کمرے میں ہونا چاہئے، میڈیا پر معاملات طے نہیں ہوسکتے، کمیٹیوں کے ارکان میڈیا پر آنے سے گریز کریں۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ فوجی طاقت کے 12 سال سے استعمال کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، دہشت گرد گروپ شہروں میں بھی فعال ہوگئے ہیں، مذاکرات کے ذریعے جن چیزوں کو راہ راست پر لایا جاسکتا ہے ان پر توجہ دینی چاہئے۔


ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر صورت امن آنا چاہئے، دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، امن مذاکرات آسان کام نہیں بہت پیچیدہ معاملہ ہے، حکومت و انٹیلی جنس اداروں اور مذاکرات کی حامی جماعتوں کو قومی ترجیحات کو سامنے رکھ کر امن کیلئے کام کرنا چاہئے۔


جماعت اسلامی کے رہنما کہتے ہیں کہ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کو پاکستان کے دشمن فنڈنگ کررہے ہیں،  پاکستان میں شریعت کا مطالبہ بری بات نہیں، ہمارا ملک اسلامی ہے، یہاں اسلامی اصولوں کے خلاف کوئی قانون نہیں ہونا چاہئے، ہماری سیاسی جماعتیں بھی ابہام پیدا کررہی ہیں انہیں یکساں مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔


حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے کمیٹی مکمل نہیں تھی تاہم اب 3 رکنی کمیٹی کو حتمی قرار دیا گیا ہے، انشاء اللہ ایک دو روز میں ملاقات ہوجائے گی، کمیٹی میں طالبان کا اپنا نمائندہ بھی ہونا چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ کمیٹی میں طالبان کے نمائندے کی موجودگی سے حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی، طالبان شوریٰ جسے نامزد کرے گی ہم ان سے مذاکرات کریں گے، بات چیت شمالی یا جنوبی وزیرستان میں بھی ہوسکتے ہیں۔


رسم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ طالبان سے مطالبہ کریں گے کہ خود کش اور بم حملے بند ہونے چاہئیں، بات چیت شروع ہونے کے بعد ہوسکتا ہے کہ مذاکرات کی مخالف قوتیں بم دھماکے اور حملے کروائیں، کسی کو مذاکراتی عمل سبوتاژ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔


ان کا مزید کہنا ہے کہ طالبان اور حکومت کی طرف سے اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ جو بھی فیصلے ہوں انہیں تسلیم اور عملدرآمد کیا جائے گا، شرائط کو میڈیا پر لانے سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچے گا، قبائلی علاقے میں کسی نے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا، وہاں ان کے رواج کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔


پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ طالبان اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹیوں میں اعتماد کی کمی ہے، عمران خان اور جے یو آئی ف کو کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار نہیں کرنا چاہئے،  بات چیت میں اندرونی اور بیرونی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، بہت سے معاملات پر کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی اپنانی ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ اگر شریعت کے نفاذ کا مطالبہ آیا تو پاکستان میں کون سی شریعت نافذ کی جائے گی یہاں مختلف مکاتب فکر کے لوگ رہتے ہیں، ہمارے اندر مرنے والے فوجیوں اور مارنے والوں کو شہید کہنے والے لوگ موجود ہیں، پاکستانی قوم اور سیاسی جماعتیں تقسیم ہوچکی ہیں۔


پی پی رہنما کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیوں سے گزارش کروں گا کہ وہ میڈیا پر آنے سے گریز کریں، قمر زمان کائرہ کی رائے سے رستم شاہ مہمند اور جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے اتفاق کیا۔


سینئر صحافی اور تجزیہ کار شاہین صہبائی نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے اپنی رائے دی کہ مذاکراتی عمل شروع ہوتا نظر نہیں آرہا، طالبان کی جانب سے کون ضمانت دے گا کہ وہ آئندہ دہشت گرد کارروائیاں نہیں کریں گی، اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو کیا فوج دفاع میں کچھ نہیں کرے گی۔


انہوں نے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب ابھی ناممکن نظر آرہا ہے، حکومت اور طالبان دونوں نے مذاکراتی عمل کو آؤٹ سورس کردیا، لگتا ہے دونوں جانب سے وقت حاصل گزاری کی جارہی ہے، مذاکراتی عمل میں سنجیدگی نظر نہیں آرہی۔


شاہین صہبائی مزید کہتے ہیں کہ ہماری فوج غیر ملکیوں کو محفوظ راستہ اور قیدیوں کی رہائی پر آمادہ نہیں ہوگی، اتفاق ہونے کے بعد فیصلوں پر عملدرآمد کس طرح ہوگا یہ بھی طے کیا جانا چاہئے، مذاکرات کا عمل خفیہ ہونا چاہئے، میڈیا پر یہ معاملات طے نہیں ہوسکتے۔ سماء

پر

Pakistani

law

Benazir

میڈیا

Tabool ads will show in this div