کالمز / بلاگ

سودن ۔۔۔ حکومت اِن

کچھ دنوں پہلے ایک بھارتی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس فلم میں دولڑکے ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں اوردونوں ہی اس بات کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں کہ لڑکی جو کہ فلم کی ہیروئن ہے ان دونوں نوجوانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔

مگر فلم کے دوسرے حصے میں فلم کی تمام کہانی یکسر تبدیل ہوجاتی ہے اور ان دونوں نوجوانوں میں سے ایک نوجوان دوسرےکو مخاطب کرکے یہ کہتا ہے کہ تمہاری اس لڑکی سے انڈرسٹنڈنگ مجھ سے کہیں زیادہ ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اس لڑکی سے میرا ذکر کرو اور اس کے دل میں میرے پیار کی میرے پیار کی شمع جلاؤ اور اس بات کا یقین دلاؤ کے میں اسے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔ وہ نوجوان اپنے پیار کی قربانی دے کر اپنے دوست کو اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ وہ جس کو پسند کرتا ہے وہی اس کی زندگی میں اسکی جیون ساتھی ہو گی۔ وہ دوست اس سے یہ شرط بھی لگاتا ہے کہ" سات دن لڑکی ان"۔

بیس مئی 2018ء کوپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی حکومت کا 100 دن کا مجوزہ پلان پیش کرتے ہوئے کہا کہ 100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے ابتدائی 100 روزہ پارٹی کی عکاسی کریں گے کہ پارٹی کس راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے اور ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم 2013 ءمیں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس اب حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے اور ہم نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔( کیونکہ خان صاحب کو تب یہ پتہ تھا کہ 2013 ءمیں "جنرل الیکشن" تھے اور آج "جرنیل الیکشن" ہیں )۔

عمران خان کے 100 روزہ پلان کے اعلان پررد عمل میں خورشید شاہ نےکہا کہ 100 دن کا پروگرام ناقابل عمل ہے، اگر 100 دنوں میں عمران خان نےعمل درآمد کردیا توسیاست چھوڑدوں گا، یہ عملی پلان نہیں بلکہ الیکشن شوشہ کہہ سکتا ہوں کیونکہ دعوؤں کی کوئی حقیقت بھی ہونی چاہیے۔ خورشید شاہ کا کہناتھاکہ 100 دن کا پروگرام دینا پری پول رگنگ کا اشارہ بھی بنتا ہے کیونکہ الیکشن جیت کر 100 دن کا پروگرام دیا جاتا ہے پہلے نہیں، یہ الیکشن جیت کربیٹھے ہیں اس لیے 100 روزہ پروگرام دے دیا، یہ جیتے تو اب کوئی الیکشن ماننے کو تیار نہیں ہو گا۔

مسلم لیگ (ن) کےرہنماؤں نے عمران خان کے 100 روزہ پلان پر تنقید کرتے ہوئے اسے فیل قرار دے دیا۔ احسن اقبال نےکہا کہ ہماری سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں، شعبدہ بازنے 100 دن کا پروگرام پیش کیا، ہم نے جب ان کا 100 دن کا پروگرام دیکھا توہنسی آئی کیونکہ نقل کے لیے بھی عقل چاہیے۔ شعبدہ بازنے معصومانہ انداز میں سو دن کا پروگرام پیش کیا، یہ تو ہمارے وژن دو ہزارپچیس کا چربہ ہے۔

عمران خان کے 100 روزہ پلان کے اعلان پر کوئی اسے پری پول رگنگ کا نام دے رہا ہے ، تو کوئی اسے وژن دو ہزارپچیس کا چربہ ہے۔ مگر اس فلم جس کا ذکر میں نے اس کالم کے ابتدائیہ میں کیا بالکل ویسے ہی ہے،عمران خان کے 100 روزہ پلان کے اعلان پر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سودن حکومت ان۔ ابھی یہ سوچنا اور سمجھنا باقی ہے کہ 100 روزہ پلان کے بعد حکومت ان کی ہوگی یا اُن کی؟۔

PTI

IMRAN KHAN

100 Days plan

Tabool ads will show in this div