اقتدارکے دس سال:سندھ حکومت کے چارسو منصوبے تاحال نامکمل

May 27, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/05/Sindh-Gov-Projects-KHI-PKG-26-05-18.mp4"][/video]

سندھ حکومت کا دس سالہ دور اقتدار مکمل ہونے میں دو روز باقی ہیں لیکن صوبے میں کئی منصوبے اب بھی ادھورے ہیں۔

سندھ حکومت نے دوبارمسلسل اقتدار ملنے کے باوجود کارکردگی دکھانے کے معاملے میں حد کردی۔ صوبے میں ایک دو نہیں 400 منصوبے نامکمل ہیں۔ چیدہ چیدہ کا ذکر کرتے ہیں۔

کروڑوں کے بجٹ منظور ہونے کے باوجود محکمہ ورکس اينڈ سروس کے سڑکيں اور عمارتيں تعمير کرنے کے ڈيڑھ سو منصوبے تاحال نا مکمل ہيں۔

لاڑکانہ پيرا ميڈيکل انسٹيٹیوشن کي منظوري 2012 ميں ہوئي ليکن کام تاحال نہ شروع ہوئے۔

تعليم،صحت،اقليتي اموراورکھيل کے بھي درجنوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے جبکہ سانگھر،ٹنڈومحمدخان، ٹنڈوالہيار، گھوٹکي اورمٹياري ميں نو سال بعد بھي پبلک اسکول قائم نہ ہوسکے۔

صوبے کے 500 سے زائد اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی ليکن 2008 ميں ہونيوالی کوئی اپ گريڈيشن تاحال نہيں ہوئی۔

چانڈکا ميڈيکل کالج کيلئے 50 بيڈز والا سرجيکل آئي سي يو وارڈز بھي تاحال قائم نہ ہوسکا۔

ٹھٹھہ کے واٹر سپلائي اسکيم کي2013 ميں منظوري ہوئي ليکن تاحال پاني نہ ملا۔

سندھ کے مختلف اضلاع ميں اسمال انڈسٹريز اپ گريڈيشن کے منصوبوں پر بھي عمل نہ ہوسکا۔

development

incomplete projects

Tabool ads will show in this div