دیوانے کا خواب اور عمران خان

May 26, 2018

ابھی پاکستان مسلم لیگ نواز کا دور اقتدار مکمل ہوا نہیں اور تحریک انصاف کی طرف سے حکومت میں آنے کے بعد پہلے 100 دنوں کا ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ جس میں وفاق کو مظبوط کرنے سے لے کر پاکستان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے ارادے ظاہر کئے گئے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ 2013 کے انتخابات کی نسبت 2018 کے انتخابات سے پہلے لگ رہا ہے کہ اس بار تو عمران خان وزیراعظم بنیں ہی بنیں۔ 2013 کے انتخابات میں تبدیلی کا نعرہ مقبول تو تھا لیکن اس بار کوئی نعرہ نہیں بلکہ شریف خاندان کے برے حالات، احتساب عدالتوں میں زیر سماعت شریف خاندان کے مقدمات اور ان دیکھے سیاسی حالات عندیہ دے رہے ہیں کہ اگلی بار، ہر صورت عمران سرکار۔

موجودہ حالات اور پہلے بلوچستان میں تبدیلی حکومت اور پھر سینیٹ انتخابات کے نتائج کی روشنی میں مان بھی لیا جائے جائے کہ اگلی باری تحریک انصاف کی ہوگی۔ جس کے لیے تحریک انصاف نے 100 دنوں کا ایجنڈا ریلیز کیا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کو کیا یقین ہے کہ تحریک انصاف وفاق کے علاوہ صوبوں میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی؟۔

اگلے عام انتخابات سے تقریباً 2 ماہ پہلے عمران خان کی طرف سے اس ایجنڈے کا اعلان ظاہرکرتا ہے کہ ایک دیوانے کی طرح عمران خان کو بھی یقین ہے کہ وفاق سمیت چاروں صوبوں میں بھی اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہوگی۔ اسی وجہ سے 100 دنوں کے اس ایجنڈے میں ایسی اصلاحات بھی شامل کردی ہیں۔ جو کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی حدود میں آتی ہیں۔موجودہ حالات کے مطابق یہ تو لگ رہا ہے کہ وفاق میں تحریک انصاف دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنالے گی۔ خیبر پختونخوا میں بھی حکومت تحریک انصاف کی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اگر عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ پنجاب اور سندھ میں بھی صوبائی حکومتیں بنا لیں گے۔ تو یہ سراسر ان کی خوش فہمی ہوگی۔

اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں کہ عمران خان دیگرسیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ بلکہ اگر سیاسی تاریخ اور انتخابی نتائج کو دیکھا جائےتو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سپورٹ درکار ہوگی کیونکہ پنجاب کی سب سے بڑی جماعت (ابھی تک) نواز لیگ کے ساتھ عمران خان اتحاد کرنے سے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سندھ میں اہمیت تقریباً ختم ہونے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی دیہی سندھ میں ابھی تک سب سے مضبوط جماعت ہے۔ البتہ سندھ کے شہری علاقوں میں متحدہ کی پتلی سیاسی حالت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سندھ کے شہری علاقوں میں سخت انتخابی مقابلوں کے باوجود لگتا نہیں کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی دوسری سیاسی جماعت صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

اگر مان لیا جائے کہ تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے کیلئے پیپلز پارٹی سے اتحاد کربھی لیتی ہے تو کیا پیپلز پارٹی تحریک انصاف یا عمران خان کو اجازت دے گی کہ وہ سندھ کے صوبائی معاملات میں دخل اندازی کرے؟۔ کیونکہ اگر تحریک انصاف سندھ کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے گی تو وفاق میں بحیثیت مظبوط حلیف پیپلز پارٹی بھی اپنی منوائے گی اور پیپلز پارٹی کیسی شرائط منوانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ پورا پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں بخوبی لگا چکا ہے۔جہاں تک معاملہ ہے بلوچستان کا تو بلوچستان میں ہمیشہ اس جماعت کی حکومت ہوتی ہےجو وفاق میں برسر اقتدارہوتی ہے۔ اس لیےعمران خان کے لیے اپنے اس 100 دنوں کے ایجنڈے کو کے پی کے کے علاوہ بلوچستان میں بھی عملی جامہ پہنانا مشکل نہیں ہوگا لیکن سندھ اور پنجاب میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اگر دیکھا جائے تو نواز لیگ کو پنجاب حکومت سے علیحدہ کرنا اگلے عام انتخابات میں بھی ممکن نہیں ہوگا اور اس کی وجہ یہ کہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور آزاد اراکین جتنی مرضی نشستیں حاصل کرلے، نواز لیگ اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ خود سے نا سہی لیکن کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کرکے پنجاب حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے اور پھر سے شہباز شریف خادم اعلیٰ ہوتے ہوئے پنجاب کی ترقی کا عمل دوبارہ سے شروع کردیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران خان کے 100 دنوں کے ایجنڈے پر شہباز شریف پنجاب میں عمل زیادہ بہتری سے کرنا شروع کردیں کیونکہ الیکشنز دوبارہ 5 سال بعد بھی تو ہونے ہی ہیں۔

IMRAN KHAN

PML N

100 Days plan

Tabool ads will show in this div