رواں سال پاکستان میں پولیو کیسز کی بدترین صورت حال

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : پاکستان میں پولیو کیسز پر عالمی تشویش اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ پچھلے دو سالوں میں مصر، فلسطین، اسرائیل، شام، عراق اور افغانستان میں سامنے آنے والے زیادہ تر پولیو کیسز کا ذمہ دار پاکستانی شہر سکھر کے جنرل بس اسٹینڈ پر پایا جانے والا پولیو وائرس تھا۔

جون دو ہزار بارہ میں تحریک طالبان نے پولیو ورکرز کو امریکی ایجنٹ قرار دے دیا اور ان پر حملے شروع کردیئے۔ کئی پولیو ورکرز قتل ہوئے، جس کے بعد سے اب تک وزیرستان میں انسداد پولیو مہم نہیں چلائی جاسکی۔ رواں سال تو صورت حال بدترین ہوگئی ہر سال جنوری سے جون کے سیزن میں وائرس کا پھیلاؤ کم ہوتا تھا لیکن اس سال ابتدائی چار ماہ میں ہی پولیو کے انسٹھ کیسز سامنے آئے جس میں سے چھیالیس کا تعلق فاٹا، نو کا خیبرپختونخوا اور چار کا تعلق کراچی سے تھا۔

کراچی کے چاروں کیسز میں متاثرہ خاندان کا تعلق بھی وزیرستان کے محسود قبیلے سے تھا، ہر مہم میں تین کروڑ چالیس لاکھ بچوں کو پولیو بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں، چھیاسٹھ ہزار خاندان اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکاری ہیں، مگر اصل مسئلہ بیس لاکھ بچوں تک پولیو ویکسین کا نہ پہنچنا ہے۔ اس مایوس کن کارکرگی کے باوجود آج تک کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف پولیو مہم میں خراب کارکردگی کی بنیاد پر کوئی ایکشن نہیں کیا گیا۔ سماء

Bipasha Basu

brown

Tabool ads will show in this div