کالمز / بلاگ

متنازع لیڈر کے متنازع بیانات

تحریر: عبداللہ

پہلے وزارت عظمیٰ سے نااہلی، پھر پارٹی صدارت سے نااہلی اور آخر میں تاحیات نااہلی کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف مسلسل متنازع بیانات دے رہے ہیں، میاں نواز شریف اداروں پر بلاجواز تنقید کرکے انہیں متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر جو شخص خود متنازع ہو عوام اس پر بھروسہ نہیں کرتے، ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیان پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا مگر دوسری طرف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے متعدد رہنماء اس قابل اعتراض بیان کا دفاع کرتے نظر آئے، کسی بھی سیاسی کارکن یا رہنماء کا اپنی جماعت یا اپنی جماعت کے سربراہ سے وفادار رہنا بہت اچھی بات ہے مگر جب بات ریاست کی ہو تو ایک محب وطن سیاسی کارکن کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا سیاسی رہنماء سے نہیں بلکہ ریاست سے وفاداری نبھائے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے متنازع بیان کے بعد موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی جماعت کے سپریم لیڈر کے حق میں بیان دیکر پارٹی سے سیاسی وفاداری کا ثبوت تو دے دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم ریاست سے وفادار رہنے کا فرض پورا کیا؟، میرے نزدیک سیاسی کارکن یا رہنماء کو اپنی جماعت سے وفاداری کے بجائے ملک سے وفادار رہنا چاہئے لیکن سیاسی کارکن یا رہنماء اگر ملک کا وزیراعظم ہو تو اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی جماعت کے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفادات کو اہمیت دے اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگائے، کسی بھی اہم عہدے پر رہنے والے شخص کو کوئی بھی بیان دینے سے  سوچنا چاہئے لیکن ایسا شخص جو 3 مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا ہو اس کی جانب سے ایسا متنازع بیان سامنے آنا جو عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بنے افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔

نواز شریف کے متنازع بیان کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک طرف نااہل وزیراعظم کے بیان کی وضاحتیں پیش کرتے نظر آئے تو دوسری طرف ان کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے والد کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا، اس متنازع بیان کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میاں نواز شریف پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا، بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی نواز شریف سے وضاحت کا مطالبہ کیا، جس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو غدار کہنے والے پہلے اس جیسا محب وطن ڈھونڈ کر دکھائیں۔

نواز شریف کے متنازع بیان کے بعد پاک فوج کی درخواست پر قومی سلامتی کمیٹی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا، قومی سلامتی کمیٹی نے ممبئی حملوں کے حوالے سے مقامی اخبار میں شائع ہونے والا سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان گمراہ کن قرار دیا جس کے ردعمل میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔

میں بحیثیت پاکستانی قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو عوامی جذبات کی ترجمانی سمجھتا ہوں، اس سے زیادہ تکلیف دہ اور افسوسناک بات کیا ہوگی کہ نواز شریف اپنی سیاست اور اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں، میاں صاحب قوم کو قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے پر نہیں بلکہ آپ کے گمراہ کن، متنازع اور تکلیف دہ بیانات پر افسوس ضرور ہوا ہے۔

JIT

STATE

Panama

Anti State Interview

Tabool ads will show in this div