پرویزرشید اورمشاہداللہ کو ہٹانا بردباری کا حصہ تھا:نوازشریف

May 24, 2018

ملکي مفاداورحقيقي جمہوريت کيلئے ہم سب کوکھڑنا ہونا ہوگا۔ نوازشريف کل کے بيان پرڈٹ گئے ۔ کہا دھرنے کے دنوں ميں استعفيٰ کا پيغام دينے والے ماتحت افسرکو گھر بھيج سکتا تھامگر ملکي سلامتي کيلئے صبرسے کام ليا۔ قائد ن ليگ ن اپنے دواہم وزرا کوعہدوں سے ہٹانے کو بربادي سے تعبيرکيا۔

سابق وزیراعظم نے اہل سیاست کومتحد ہوجانے کا پیغام دیتے ہوئےماضی ميں کی گئی اپنی غلطیوں کااعتراف بھی کرلیا۔نیب ریفرنس میں پیشی کے دوران احتساب عدالت میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حقائق منظرعام پرآنے چاہئیں۔ اگرہم چاہتےہیں ملک میں حقیقی اورپائیدار جمہوریت ہوتوسب کھڑے ہوں کیونکہ اب کھڑے ہونگے تو یہ ممکن ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں دھرنوں کے وقت صبراور ہمت سے کام لیا۔ استعفیٰ کا مشورہ دینے والے اپنے ماتحت افسرکو فارغ کرسکتا تھا لیکن ملکی سلامتی کی خاطر تحمل اور درگزر کا مظاہرہ کیا۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اگرسر جھکاکے نوکری نہیں کی تومشاہداللہ اورپرویزرشید سے استعفیٰ کیوں لیا؟ نواز شریف بولے کہ دونوں کوعہدوں سے ہٹانا بردباری کا حصہ تھا۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ کل میری مکمل تقریرٹی وی پردکھانے جانے پر بڑی حیرت ہوئی ہے ۔ میڈیا اپنے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے نہ پڑنے دے میڈیا کاحق ہے کہ وہ یہ سب دکھائے۔

واضح رہے کہ نواز شریف نے گزشتہ روز ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے ایک خفیہ ادارے کے افسر کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاؤ یا طویل رخصت پر چلے جاؤ۔ اس بات کا بہت دکھ ہوا کہ ایک ماتحت ادارے کا ملازم مجھے یہ پیغام دے رہا ہے۔

   

mushahid ullah

Avon Field Reference