عام انتخابات اور پنجاب

پنجاب کی سیاسی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات میں صرف دو سیاسی جماعتوں کے مابین مقابلہ ہوگا۔ عمران خان نے نا صرف نواز شریف کو تاحیات نااہل کروایا بلکہ پوری نواز لیگ کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ نواز لیگ کے متعدد رہنما اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی تبدیلی کی لہر نے پیپلز پارٹی کی سیاست کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ شاہ محمود قریشی، بابر اعوان اور فواد چوہدری کے بعد ندیم افضل چن، فردوس عاشق اعوان، نظر محمد گوندل، صمصام بخاری، راجہ ریاض، اشرف سوہنا سمیت پیپلز پارٹی کے درجنوں رہنما اور ہزاروں کارکنان تحریک انصاف کے تبدیلی کارواں کا حصہ بن چکے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب میں رکھی تھی آج پنجاب سے الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی تلاش میں ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی تنہائی اور بےبسی کا یہ عالم ہے کہ پی پی پی راولپنڈی کے سینئر رہنما عامر فدا پراچہ نے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی سے بغاوت کی اور پیپلز پارٹی کے مخالف امیدواروں کی حمایت کی مگر پیپلز پارٹی نے انہیں برطرف کرنے کے بجائے سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کا ترجمان مقرر کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں اب یہ حالت ہے کہ وہ کسی بھی رہنما کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے یہ دعوی کیا ہے کہ مخدوم احمد محمود اور منظور وٹو پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گے تاہم پیپلز پارٹی کے دونوں رہنماؤں نے قریشی صاحب کے بیان کی تردید کی ہے۔

2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی ملک کی تیسری اور پنجاب کی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی مگر اس وقت تحریک انصاف کو ملک کی مقبول ترین جماعت کہا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے موجودہ سیاسی حالات دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے نتائج نواز لیگ کے لئے زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوں گے لیکن تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کی طرح صوبہ پنجاب میں بھی اتحادیوں کی مدد سے پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جو جماعت پنجاب سے اکثریت حاصل کرے گی وفاق میں بھی اسی جماعت کی حکومت بننے کے امکانات ہیں۔ پیپلز پارٹی جو اس وقت ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے شاید پنجاب میں چوتھی پوزیشن بھی حاصل نا کر سکے کیونکہ پیپلز پارٹی پنجاب کے بہت سے اہم رہنما اور سابق اراکین اسمبلی صوبے کی بدلتی سیاسی صورتحال دیکھ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ پنجاب کی موجودہ سیاسی صورتحال دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نواز سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کا ہوا ہے کیونکہ نواز لیگ سے صرف نواز شریف اور خواجہ آصف مائنس ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف پوری پیپلز پارٹی پنجاب سے مائنس ہو چکی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے عرصے میں پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو مسلم لیگ نواز نے لاہور اور لودھراں میں تحریک انصاف کو شکست دی، تحریک انصاف کے امیدوار بھاری ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کرسکے لیکن عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا یہ دعوی ہے کہ پنجاب کا اگلا وزیراعلی جیالا ہوگا لیکن چند ماہ قبل ہونے والے این اے 120 کے ضمنی انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو وہاں ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک پاکستان نے بھی پیپلز پارٹی سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے۔ پنجاب سے پیپلز پارٹی کو کامیابی ملنا تو درکنار شاید تمام نشستوں پر انتخابات لڑنے کے لئے امیدوار بھی نا ملیں۔ دوسری طرف پنجاب میں پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ دیکھ کر نواز شریف بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے بیان کا انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا۔ اس متنازعہ بیان کے بعد نواز لیگ کے متعدد رہنما پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ عوام میں بھی سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا اظہار انتخابات والے دن ممکن ہے۔

PTI

PUNJAB

Election2018

Tabool ads will show in this div