آواران میں گیسٹرو کی وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8 ہوگئی

چند دن قبل بلوچستان کے پسماندہ ضلع آوران میں پانی میں پینے کا پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکینوں نے دستیاب تالاب سے زہریلا پانی پی لیا تھا جس سے علاقے میں ڈائریا اور گیسٹرو کی وبا پھیل گئی تھی جس سے دو سو کے قریب لوگوں متاثر ہوئے تھے۔

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد لسبیلہ کی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی تھی جس کے بعد ان مریضوں کو ایمبولینسز کے زریعے حب کے جام غلام قادر اسپتال پہنچایا گیا،اس کے علاوہ پاک فوج کے دستے نے بھی ریلیف آپریشن میں حصہ لیتے ہوئے مریضوں کو ہیلی کاپٹر کے زریعے حب منتقل کیا۔

یہ پڑھئیے:آواران میں گیسٹرو کی وبا پھوٹ پڑی،پاک فوج کا ریلیف آپریشن

 اس حوالے سے جام غلام قادراسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عباس لاسی نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ہمارے پاس 122 متاثرین کو لایا گیا ہے جس میں 80 فیصد متاثرین مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں اور باقی 20 فیصد متاثرین بھی جلدی سے صحت یاب ہورہے ہیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ 50 بیڈڈ اسپتال میں جب اُس کی کیپسیٹی سے تین گنا زائد مریض لائے جاتے ہیں تو مشکلات کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے مگر انتظامیہ کا مکمل تعاون میرے ساتھ ہے،ڈاکٹر عباس لاسی کا کہنا تھا کہ جام غلام قادراسپتال کے تمام اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردیں گئیں ہیں اور ہماری ٹیم اب 24 گھنٹے مریضوں کی نگہداشت پر مامور ہے۔

یہ پڑھیئے،جھاو میں زہریلا پانی پینے سے دو ہلاک 

دوسری جانب سماء سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل کا بھی کہنا تھا کہ حالات اب پہلے سے کافی بہتر ہیں،ہماری میڈیکل ٹیمیں تاحال ٹرانچ میں بیٹھی ہوئیں ہیں،انھوں نے بتایا کہ جتنی بھی ہلاکتیں ہوئیں ہیں یہ ابتدائی دنوں میں ہوئیں ہیں مگر جب ہماری ٹیمیں وہاں پہنچی ہیں اس کے بعد کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرانچ میں موجود متاثرین کو ضروریات زندگی کی اشیاء بھی بہم پہنچائی جارہی ہیں ۔

 

AWARAN

lasbella

GESTRO

Tabool ads will show in this div