تھر کی بھوک مزید ایک اور معصوم کلی نگل گئی

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر:

 

تھر پارکر  :   تھر کی قحط سالی نے مزید ایک اور زندگی کا چراغ گل کردیا، غذائی قلت اور بھوک کے باعث مٹھی اسپتال میں زیر علاج چار سال کی بچی دم توڑ گئی۔

 

مائی بھاگی کی سرزمین قحط سالی اور شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جہاں ایک اور بچہ زندگی ہار گیا۔ اکیس روز میں ہلاکتوں کی تعداد بائیس ہوگئی۔ غذائی قلت کے شکار کئی افراد سول اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

 

بوند بوند کو ترستا تھرپاکر اور غذائی قلت کا شکار ہوا تو زندگی بھی روٹھنے لگی۔ کئی افراد سول اسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سول اسپتال میں ایک اور بچی غذائی قلت کے باعث موت کے منہ میں چلا گیا، اسپتال میں چونتیس بچے زیر علاج ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

 

غذائی قلت کے باعث تھر پارکر میں آٹھ ماہ کے دوران چار سو سینتیس بچے لقمہ اجل بن چکے ہيں، جب کہ گزشتہ اکیس روز میں بائیس ہلاکتیں ہوئیں۔سول اسپتال مٹھی سے تئیس روز میں تینتالیس مریضوں کو دیگر شہروں میں منتقل کیا گیا۔

 

سنگین صورت حال کے باوجود سندھ حکومت غفلت کی نیند سورہی ہے، تھر پارکر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی پوری نہ ہوسکی، لیکن ڈی ایچ او کا دعوی کچھ اور ہے، کہتے ہیں ڈاکٹر بھی بہت دوائیوں کی بھی کمی نہیں۔

 

حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے تھر واسیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سول اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز تعینات کئے جائیں تاکہ ان کے ننھے پھول مرجھانے سے بچ سکیں۔ سماء

اور

کی

ایک

Tabool ads will show in this div