اسرائیلی فورسز کی فائرنگ، اقوام متحدہ کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

May 15, 2018

مقبوضہ بیت المقدس ميں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے بعد غزہ میں فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا،اسرائیلی فوج کی مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ سے ساٹھ فلسطینی شہید کردیئے گئے اٹھائيس سو سے زائد زخمي ہوگئے، شہدا ميں سولہ بچے بھي شامل ہيں ، سلامتي کونسل نے جمعرات کو اپنا ہنگامي اجلاس طلب کرليا ہے ۔

اسرائيلي قابض فوج نے ظلم کي انتہا کردي، مقبوضہ بيت المقدس ميں امريکي سفارتخانے کے افتتاح پر فلسطينيوں نے غزہ کي سرحد پر احتجاج کيا تو صہيوني فورسز نے نہتے مظاہرين پر براہِ راست گولياں برسا ديں ۔

اسرائيلي فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری سے لاشیں گرتي رہيں مگر فلسطینی احتجاج کرتے رہے آگے بڑھتے رہے، کم عمر بچوں، خواتين اور صحافيوں سميت درجنوں شہيد اور سيکڑوں زخمي ہوئے، عارضی میڈیکل کیمپ اور اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ۔

اسرائيلي وزيراعظم بن يامين نيتن ياہو نے اپني افواج کي دہشت گردي کو دفاعي اقدام قرارديتے ہوئے الزام لگايا کہ فلسطيني سرحد پربم نصب کرنے کي کوشش کر رہے تھے۔

اسرائيلي سربريت کے خلاف فلسطيني اتھارٹي نے آج ہڑتال کا اعلان کيا ہے، اتھارٹي کےسربراہ محمود عباس کا کہنا ہے صہيوني افواج کي کارروائياں فلسطينيوں کي کھلم کھلا نسل کشي ہيں۔

مزید پڑھیں : امریکا نے دنیا کی بے عزتی کی ہے،فلسطینی صدر

سلامتي کونسل نے اس درندگي کي آزادانہ تحقيقات کا مطالبہ کيا تو امريکا نے اقوام متحدہ کي جانب سے تحقيقات کي درخواست بلاک کردي ۔

مزید پڑھیں : اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 52 ہوگئی

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے حماس کو خونريزي کا ذمہ دار قرار ديا، جرمني نے کہا اسرائيل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے ۔

ترکي نے جمعہ کو او آئي سي کا ہنگامي اجلاس طلب کرليا ہے، ترک وزيراعظم طيب ايردوان نے اسرائيلي کارروائيوں کو فلسطينيوں کي نسل کشي اور دہشت گردي قرار ديتے ہوئے کہا کہ اس جرم ميں امريکا بھي برابر کا شريک ہے۔

يورپي يونين، فرانس اور برطانيہ نے بھي اسرائيلي دہشت گردي کي مذمت کي ، امريکي سفارتخانے کي مقبوضہ بيت المقدس منتقلي کے خلاف لبنان اور استنبول ميں فلسطينيون کے حق ميں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کيا ۔

 

Ismail Haniyeh

Tabool ads will show in this div