تھر میں ننی زندگیوں کے چراغ گل ہونے کا سلسلہ جاری، مزید 7 کلیاں مرجھا گئیں

اسٹاف رپورٹ

مٹھی : تھرپارکر کے علاقے کلوئی میں غذائی قلت کے باعث جڑواں بچے دم توڑ گئے، آج قحط زدہ علاقے مزید 7 زندگیاں موت کے منہ میں چلی گئیں، 58 روز میں غذائی قلت 140 جانيں لے گئی، سیشن جج مٹھی نے ریلیف انسپیکٹنگ جج کی رپورٹ سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کردی، جس ميں کانگو وائرس پھيلنے کا خدشہ ظاہر کيا گيا ہے۔

قحط کے وار جاری ہیں، تھر میں اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، ہر نئی صبح زندگی کے چراغ گل کررہی ہے، تھرپارکر میں مرنے والے بچوں کی گنتی بڑھتی جارہی ہے، حکومتی دعوے اور امداد ننھے پھولوں کی اموات روکنے میں ناکام ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق تھرپارکر کے علاقے کلوئی میں غذائی قلت کے باعث جڑواں بچے دم توڑ گئے، آج ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔

قحط سالی پر ایک اور رپورٹ بھی منظر عام پر آگئی ہے، ریلیف انسپیکٹنگ جج میاں فیاض ربانی کی تیار کردہ رپورٹ سیشن جج مٹھی نے سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کردی ہے، بچوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت تھرپارکر کو قراردیا گيا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کيا گيا ہے کہ تھر واسیوں کی امداد میں بڑے پیمانے  پر کرپشن ہورہی ہے، لاکھوں منرل واٹر کی بوتلیں ایکسپائر ہونے کی ذمہ دار انتظامیہ ہے، محکمہ بہبود آبادی کی کارکردگی بھی صفر ہے۔

رپورٹ ميں خبردار کيا گيا ہے کہ مویشیوں کی ویکسینیشن نہ ہوئی تو تھر میں کانگو وائرس پھيل سکتا ہے اور مزید انسانی جانیں بھی ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ سماء

saeed

dramatic

state bank

Tabool ads will show in this div