تھرپارکر،چھاچرو،مزید تین بچے غذائی قلت سے انتقال کرگئے

ویب ایڈیٹر:


تھرپارکر  ،  چھاچرو  :   تھرپارکر کے مختلف ديہاتوں اور چھاچرو کے تحصیل استپال میں مزید تین بچے غذائی قلت اور بیماری کے باعث انتقال کرگئے، جس کے بعد تھر میں جاں بحق بچوں کی تعداد 164 تک جاپہنچی ہے، جب کہ 65روز میں چھاچرو میں انتقال کرنے والے بچوں کی تعداد 165 تک پہنچ گئی ہے۔

مائی بھاگی کی سرزمین قحط سالی اور شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جہاں مزید تین کم سن بچے زندگی ہار گئے،دو ماہ کے دوران تھرپارکر میں غذائی قلت سے انتقال کرنے والے بچوں کی تعداد 164 تک پہنچ گئی، دوسری جانب چھاچرو کے تحصیل اسپتال میں غذائی قلت کے باعث دو ماہ کا بچہ چل بسا، گزشتہ دو گھنٹوں کے دورام تین بچے دم توڑ چکے ہیں، جس کے بعد 65 دنوں میں جاں بحق بچوں کی تعداد 165 ہوگئی، مگر حکام کے بالا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ غذائی قلت کے شکار کئی بچے اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

 

سنگین صورت حال کے باوجود سندھ حکومت غفلت کی نیند سورہی ہے، تھر پارکر  اور دیگر اسپتالوں کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی پوری نہ ہوسکی، لیکن ڈی ایچ او کا دعوی کچھ اور ہے، کہتے ہیں ڈاکٹر بھی بہت دوائیوں کی بھی کمی نہیں۔  حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے تھر واسیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سول اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز تعینات کئے جائیں تاکہ ان کے ننھے پھول مرجھانے سے بچ سکیں۔ سماء

سے

Inqilab March

evacuated

Tabool ads will show in this div