حب میں ہندو تاجردوران ڈکیتی مزاحمت پربیٹے سمیت قتل

حب میں ٹیلی کمیونیکشن کے کاروبار سے وابستہ ہندو تاجر کے بیٹے سمیت دوران ڈکیتی مزاحمت پر بہیمانہ قتل پرہندو برادری نے زبردست احتجاج کیا اور مین آر سی ڈی شاہراہ بلاک کر دی۔

واقعہ رات گئے تب پیش آیا جب دونوں باپ بیٹا مقامی سمنیٹ فیکٹری سے ایزی پیسہ کی دکان بند کر کے گھر آرہے تھے کہ راستے میں گڈانی کے قریب ڈکیتوں نے ان کا راستہ روک کر ان سے رقم چھیننے کی کوشش کی جس میں مزاحمت پر ڈاکووں نے فائر کر کے باپ بیٹے کو قتل کر کے لاکھوں کی نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی حب کی ہندو اور تاجر برادری نے مین آرسی ڈی شاہراہ کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا

سما سے بات کرتے ہوئے حب کی تاجر برادری کے رہنما خورشید رند نے بتایا کہ اقلیت اس وقت عدم تحفظ کا شکار ہیں جب کہ انتظامیہ غفلت سے کام لے رہی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ دو دنوں میں اگر انتظامیہ نے قاتل گرفتار کر کے مطمئن نہیں کیا تو اپنے احتجاج کے دائرے کو مزید وسعت دیں گے۔

دوسری جانب ڈی پی او لسبیلہ محمد ہاشم مہمند نے سما سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لے رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد اس میں کامیابی ہوگی،ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے بلائنڈ مرڈر کیس پہلے بھی نمٹائے ہیں اور اس کیس میں بھی سراغ کی تلاش میں ہیں،انھوں نے بتایا کہ وہ آج تاجر برادری،ہندو برادری اور متاثرہ خاندان سے مل کر ان کےتحفظات دور کریں گے۔

Tabool ads will show in this div