متحدہ اراکین اسمبلی سے حفاظتی اہلکار واپس، نئی سیکیورٹی پالیسی جاری

ايم کيو ايم کے ارکان سندھ اسمبلی سے سيکيورٹی واپس لے لی گئی، سيکيورٹی اہلکاروں کو ڈی آئی جی دفتر رپورٹ کرنے کے احکامات مل گئے، اراکین نے الزام لگایا کہ کل بجٹ اجلاس میں احتجاج کے بعد سیکیورٹی واپس لی گئی، نئی سیکیورٹی پالیسی بھی جاری کردی گئی۔

ايم کيو ايم کے ارکان سندھ اسمبلی خود کو غيرمحفوظ سمجھنے لگے، سندھ پولیس نے سیکیورٹی واپس لے لی، اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ڈی آئی جی آفس رپورٹ کریں۔

فیصل سبزواری نے سیکیورٹی واپس لینے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں کو دہشت گردوں کے سامنے آسان ہدف بنا کر پیش کردیا گیا، یہ انتہائی شرمناک عمل ہے۔

اراکین سندھ اسمبلی نے ایم کیو ایم کی قیادت کو معاملات سے آگاہ کردیا۔

سپریم کورٹ کے احکامات

آئی جی سندھ  نے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ارکان سے سیکیورٹی سپریم کورٹ کے احکامات پر واپس لی گئی، جس کو سیکيورٹی خدشات ہوں گے، اسے سیکيورٹی فراہم کی جائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاروق ستار، خواجہ اظہار اور مصطفیٰ کمال کو بدستور سیکيورٹی فراہم کی جارہی ہے۔

نئی سیکیورٹی پالیسی

دوسری جانب سندھ حکومت کی نئی سیکیورٹی پالیسی سماء نے حاصل کرلی، جس کے مطابق وزراء کو 1 پوليس موبائل اور 8 محافظ ملیں گے جبکہ ان کی رہائش گاہ پر بھی 5 اہلکار تعینات ہوں گے، وزیراعلیٰ کے مشیر اور معاون خصوصی کے پاس 2، 2 اہلکار، چيف سيکريٹری اور سيکريٹری داخلہ کو 5 اہلکار اور ایک موبائل ملے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شرجیل میمن اور امتیاز شیخ کو 2، 2 محافظ دیئے گئے ہیں، جاوید ناگوری اور ثانیہ ناز کی حفاظت پر بھی 2، 2 محافظ تعینات ہیں جبکہ کمشنرز کو ایک پولیس موبائل اور 5 اہلکار دیئے جائيں گے۔

MINISTERS

Tabool ads will show in this div