چیئرمین نیب کے معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے؛نوازشریف

سابق وزیراعظم نواز شریف نیب کے معاملے پر ڈٹ گئے۔ کہتے ہیں چیرمین نیب کے ایشوسے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آمروں کے دور میں بھی ایسا نہیں دیکھا جوآج ہورہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں سے متعلق سوالات پرمیاں صاحب کی خاموشی نہ ٹوٹی ۔

احتساب عدالت میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ چیئرمین نیب کے الزامات کا معاملہ چھوٹا نہیں ہے۔ ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

نواز شریف نے بتایا کہ اس حوالے سے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے جس میں یہ معاملہ زیربحث لایا جائے گا۔

موجودہ حالات کوماضی سے بدتر قراردیتے ہوئے بولے آمروں کے دور میں بھی ایسا نہیں دیکھا جوکچھ ہورہا ہے۔ مجھے وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر پارٹی کی صدارت سے بھی تاحیات نااہلی کا فیصلہ دے دیا گیا، یہ سب کرنے والے ملک سے متعلق سوچیں۔

ن لیگ کے قائد نے پارٹی رہنماؤں سے متعلق صحافیوں کے سوالات پر خاموشی برقرار رکھی۔ چوہدری نثارکو پارٹی ٹکٹ دینے اور حمزہ شہباز کی نیب میں طلبی کے سوال پر بھی کچھ نہ بولے جبکہ شہباز شریف کے خلائی مخلوق سے متعلق بیان پر بھی جواب دینے سے گریزکیا۔

پس منظر

واضح رہے کہ نوازشریف نے گزشتہ روز مبینہ طور پر بھارت کو بھیجی جانے والی 5 ارب ڈالر کی رقم سے متعلق معاملے پر پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے 24 گھنٹے میں شواہد فراہم کرنے اور بصورت دیگر قوم کے سامنے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک محب وطن پاکستانی پر ایسے گھٹیا اور مضحکہ خیز الزامات ناقابل برداشت ہیں۔ مجھے وزرات عظمیٰ سے فارغ کرنا طے پا چکا تھا اس لیے خواہش پوری کی گئی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف نے 24 گھنٹے میں شواہد یا معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا

دو سال قبل ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم بھارت منتقل کی گئی ہے، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کردی تھی۔ جبکہ دو روز قبل نیب نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت منتقل کرنے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

چیئرمین نیب کا جواب

نواز شریف کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں چیئرمین نیب نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو کا نوٹس میری طرف سے ذاتی دعوت نامہ نہیں ہوتا، احتساب کرنا جرم ہے تو ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا، لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، نیب آپ کا ادارہ ہے، کسی کی تذلیل نہیں کرتے، نیب کی کسی سے دشمنی نہیں۔

وزیراعظم کا مطالبہ

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اس معاملے پر نیب کی جانب سے نوازشریف کو نوٹس بھیجنے پر چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کر کے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔

money laundring

Chairman NAB

Tabool ads will show in this div