چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کا قتل نسل کشی قرار دیدیا

رپورٹر : محمد عاطف

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں کہ ہزارہ برادری کے قتل پر مذمت کرسکیں، ہمیں ان کی حفاظت کرنی ہیں، سیکیورٹی ایجنسیز رپورٹ دیں کہ یہ سب کیا ہو رہاہے، یہ قتل نہیں بلکہ ہزارہ برداری کی نسل کشی ہے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس نے 2 مئی کو ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ رجسٹری کوئٹہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ (جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الحسن ) نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی پہلی سماعت کی۔

 

سماعت کے آغاز میں انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان معظم جاہ انصاری نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں کہ ان واقعات کی مذمت کرسکیں، میرے مطابق یہ نسل کشی ہے، جس پر سوموٹونوٹس لینا پڑا، چیف جسٹس نے کمرا عدالت میں موجود سیکیورٹی حکام سے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) فرنٹیئر کور( ایف سی) میجر جنرل ندیم انجم کہاں ہیں؟، جس پر نمائندہ ایف سی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، جب کہ سماعت میں ان کا نمائندہ موجود ہے، چیف جسٹس نے ایف سی نمائندے سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ برادری کی جان و مال کی حفاظت ہمیں کرنی ہے، مجھے ایجنسیز رپورٹ مرتب کر کے دیں کہ یہ سب کیا اور کیسے ہو رہا ہے۔

 

ہزارہ برادری کے وکیل افتخار علی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے معتبرین سے بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے جس پر ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ انہوں نے سکیورٹی واپس نہیں لی۔ ہزارہ برادری کے وکیل نے کہا کہ گزشتہ 20 سال سے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے لیکن آج تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

 

چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان معظم جاہ انصاری سے استفسار کیا کہ ٹارگٹ کلنگ سے متعلق رپورٹ بنائی؟ جس پر آئی جی بلوچستان نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ 2013 میں ہزارہ برادری کی سب سے زیادہ زیادہ ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور مذکورہ سال کے دوران 208 افراد کو قتل کیا گیا، تاہم اب امن و امان کے حوالے سے کافی بہتری آگئی ہے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت عید الفطر تک ملتوی کردی گئی۔

 

واضح رہے کہ رواں ماہ دو مئی کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزارت داخلہ سے ٹارگٹ کلنگ پر فوری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا تھا۔

 

اپنے بیان میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ،جن پر ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کاالزام ہے وہ کھلے عام جلسے کر رہے ہیں،حکومت بلوچستان ایکشن کیوں نہیں لیتی، امن و امان کی ذمہ کس کی ذمہ داری ہے؟۔ جاری بیان میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہزارہ والوں کو یونیورسٹی میں داخلے نہیں ملتے،یونیورسٹی میں داخلے تو لے لیتے ہیں لیکن ان کا جانا بہت مشکل ہے، یہ لوگ اسکول اور اسپتال نہیں جاسکتے، کیا ہزارہ والے پاکستان کے شہری نہیں؟، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی وجہ سے اس صوبے کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں جس سے ریاست کے تشخص کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

 

اس سے قبل خفیہ ادارے یہ رپورٹس دیتے رہے ہیں کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے کارکن ملوث ہیں۔

آرمی چیف کی آمد

اس سے قبل یکم مئی منگل کے روز آرمی چیف جنرل قمر باجوہ ہزارہ برداری کے مطالبے پر کوئٹہ پہنچے، جہاں برادری کے افراد نے آرمی چیف اور دیگر عسکری قیادت سے ملاقات کی۔ آرمی چیف اور عمائدین کی ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ آرمی چیف اور عمائدین کی ملاقات میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے والوں کو نشان عبرت بنا دیں گے۔

پس منظر

واضح رہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہزارہ برادری کے افراد کئی روز سے کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے تھے۔ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بیشتر حصوں میں کاروباری سرگرمیاں بھی مکمل طور پر بند رہی۔ ہزارہ برادری کی جانب سے آرمی چیف کے آنے اور ملاقات تک کسی بھی قسم کی بات چیت اور مذاکرات سے انکار کیا گیا۔

پیر 30 اپریل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ کی یقین دہانی کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہزارہ برادری نے احتجاجی دھرنا جاری رکھا، جب کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ملاقات پر بھی مظاہرین نے دھرنا ختم نہیں کیا تھا۔

ہزارہ برداری:

ہزارہ قبیلے کے لوگ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، وہ کوئٹہ شہر کے مشرق میں مری آباد، جب کہ مغرب میں بروری روڈ سے متصل ہزارہ ٹاؤن میں ہزار ہ برادری کے لوگ لاکھوں کی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ دیگر مقامات کے علاوہ انہیں دیگر علاقوں کے درمیان آمدورفت کے دوران نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس برادری کے لوگ روزانہ شہر کے مختلف علاقوں میں ضروری خوراک کی اشیاءاور روزگار کے لئے جاتے ہیں۔ اس دوران اکثر و بیشتر اُنھیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ انسانی حقوق کی تنظیم نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے ہزارہ قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ جس میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اپنی رپورٹ میں کمیشن فار ہیومن رائٹس نے بتایا تھا کہ گزشتہ 16 سالوں کے دوران ہزارہ قبیلے کے افراد پر ہونے والے حملوں میں 525 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہزارہ برادری کے لوگوں پر اس سے پہلے بھی متعدد خودکش حملے ہوتے رہے ہیں، جس میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزارہ برادری کے افراد کا کہنا تھا کہ قومی میڈیا کے مقابلے میں بین الاقوامی میڈیا ان کی زیادہ حمایت کرتا ہے۔

بلوچستان رپورٹ

اس سے قبل بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا گیا تھا کہ کوئٹہ میں جنوری 2012 سے دسمبر 2017 کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ہزارہ برادری کے 509 افراد ہلاک اور 627 زخمی ہوئے۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

تاہم ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے صدر بوستان علی  کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد رپورٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں ہزارہ برادری کے 200 سے زائد افراد تو صرف دو خودکش حملوں میں ہلاک ہوئے۔

HAZARA

CJP

community

IGFC

Suo Motu

Tabool ads will show in this div