انتخابات2018، نیا کیا ہے؟

May 10, 2018

ملک کو آمریت نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، وقت آ پہنچا ہے کہ جمہوریت نما آمریت کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا جائے۔ میں فلاں کا پوتا ، فلاں کا بیٹا ہوں آپ پہ میرا حق ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے، تبدیلی لے کر آؤں گا، آپ سے وعدہ ہے کہ مجھے بس ایک موقع اور دیں میں ملک کو دنیا میں نمبر ون بناوں گا۔ لوگ یہاں ملازمتیں ڈھونڈے آیا کریں گے، یہ ان ہزاروں نعروں اور انتخابی وعدوں میں سے چند فقرے ہیں جو آنے والے چند ماہ میں آپ کو تواتر کے ساتھ سننے کو نہ صرف ملیں گے بلکہ آپ اگر غلطی سے بھی ان نعروں کے ساتھ عقلی اختلاف بھی کریں گے تو آپ کو بے نقط سنائی جائیں گی کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگاتے، لگی بندھی روایت کو توڑنے کی جرات نہ کرنے کا وعدہ اپنے آپ سے کر لیں گے۔

جمہوریت یقیناًایک بہترین نظام ہے لیکن اگر اس کو واقعی چلنے دیا جائے تو۔ کیوں کہ ہمارے ہاں کہنے کو تو جمہوری نظام اس لمحے موجود ہے لیکن آپ سیاسی پارٹیوں میں اختلاف رائے نہیں رکھ سکتے ۔ نہ ہی آپ کسی بات پہ تنقید کر سکتے ہیں، ورنہ آپ کو نہ جانے کیسے کیسے خطابات ملنا شروع ہو جائیں گے، وہ بھی پارٹی کے اندر سے ہی ۔ چوہدری نثار علی خان صاحب اس کی واضح مثال ہیں۔ ایک عرصے سے پاکستان میں پارلیمانی نظام سسکیاں لے رہا ہے مگر اس کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے ۔ حیران کن طور پر اس میں منتخب ہونے والے لوگ کہلواتے خود کو عوام کے خادم ہیں مگر حقیقی معنوں میں وہ بزنس مین ہوتے ہیں۔ کیوں کہ صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ لینا ہی ایک جوئے شیر کھود لانے کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی سمیت محدودے چند اور پارٹیاں ہیں جن کا ٹکٹ آپ کو قابلیت پہ مل سکتا ہے۔ اکثریت کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے آپ کے پاس سرمایہ ہونا چاہیے وہ بھی اتنا کہ شمار نہ ہو سکے۔ اور یقیناًجب آپ سرمائے یا کاروبار کی بنیاد پہ ٹکٹ حاصل کریں گے تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ممبران اسمبلی عوام کی خدمت کا بیڑہ اُٹھا لیں گے؟ دیوانے کی بڑھک ہی ہو سکتی ہے خدمت۔ اگر اس دفعہ بھی انتخابات میں ٹکٹ لینے کی قابلیت پیسہ ہی ہے تو پھر نیا کیا ہے؟ اسی طرح جتنی سیاسی پارٹیاں ہیں وہ اس جانب آنا ہی نہیں چاہ رہیں کہ انہوں نے اپنے اپنے 2013 کے منشور پہ پانچ سالوں میں کتنا عمل کیا ہے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔ اگر حکومت میں تھے تو اہداف تک پہنچنے کے لیے کیا اقدامات کیے، اگر اپوزیشن میں تھیں تو اہداف کے لیے کس کس فورم پہ آواز بلند کی۔

لیکن اگر سیاسی پارٹیاں اپنے اہداف کے بجائے اس دفعہ بھی اُسی پرانے لولی پوپ پہ انتخابات میں جا رہی ہیں جو پانچ سال پہلے دیے تھے اور وہ نئے وعدے کرتے ہوئے یہ بتانا گوارا نہیں کر رہیں کہ پرانے وعدے ایفا ہو پائے یا نہیں ، اور نہیں ہوئے تو کیوں نہیں ہوئے تو کون سی تبدیلی آئی ہے؟ اور نیا کیا ہے؟ نگران سیٹ اپ پہ اس دفعہ بھی اگر اختلافات اُسی طرح پیدا ہونے کے خدشات ہیں جس طرح دو ہزار تیرہ میں ہوئے تھے تو پانچ سالوں میں انتخابی اصلاحات کے چورن کا کیا ہوا؟ اور اگر اُس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا تو انہی اصلاحات پہ نئے انتخابات کروا بھی دیے تو کیا نیا ہوا؟ اور اگر جس 62اور 63 کے شور پچھلے انتخابات میں اُٹھا وہ اپنی اَصل روح میں اس دفعہ بھی نافذ العمل نہ ہو سکے( جس کا قوی امکان ہے) تو پانچ سال میں جمہوریت نے کون سا پھر معرکہ سر کیا؟ آپ نے عوام سے وعدے کیے کہ جمہوریت بہترین نظام ہے لیکن اگر اس نظام کی خوبیاں نچلی سطح پر نہیں پہنچ پائیں تو اس دفعہ نیا کیا ہونے کی اُمید ہے؟ اگر اس دفعہ بھی اپنی کارکردگی کے بجائے ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنا ہی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ ٹھہرا تو پھر کیا فرق پڑا پانچ سال کی جمہوریت میں؟ پگڑیاں تو پانچ سال پہلے بھی اُچھل رہی تھیں تو اب نیا کیا ہے انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں؟ اگر وفاقی اکائیوں میں دس دس سال سے حکمرانی کا تاج سر پہ سجانے والی پارٹیاں دوبارہ بس ایک موقع پانے کے لیے ترلے کر رہی ہیں تو پھر ان انتخابات میں نیا کیا ہے؟ کہ جو کام وہ دس سال میں نہیں کر پائیں وہ کام مزید پانچ سال مل جانے پہ کیسے کر پائیں گی؟

انتخابی عمل یقیناًانتقال اقتدار کی پُر اَمن منتقلی کو تو یقینی بناتا ہے۔ مگر کیا ہم نے آج تک اس بات پہ غور کیا کہ پاکستان میں انتخابات چاچا ماما روایت سے ہٹ کیوں نہیں پا رہے؟ ہم نے کیا اس جانب توجہ دی کہ اگر سیاسی پارٹیوں کے پاس کارکردگی کے بجائے ہر سال صرف ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال کے عوام میں جوش پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تو ہم کس جمہوری منزل کی طرف جا رہے ہیں؟ اور اگر ہمارے ادارے سالہا سال کی جمہوریت کی وجہ سے بھی دن بدن کمزور ہو رہے ہیں تو اس کا کیا حل ہے؟

جمہوریت کو خیر باد کہنا یا غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ افزائی کسی بھی صورت صحتمندانہ رجحان نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر پانچ سال بعد جمہوریت کی خامیوں کو درست کرنے کی طرف توجہ دی جائے اور جمہوریت کو انتقام بنانے کے بجائے اس نظام کی عوام کی فلاح کے قابل بنایا جائے۔ خامیاں درست کرنے کے بجائے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے جمہوری نظام کا حصہ بننا ہی اگر مقصود ہے تو پھر خادم کہلوانا چھوڑ دیجیے۔

 

Politics

Election 2018

Tabool ads will show in this div