کوئٹہ پولیس کی بڑی کارروائی، ٹارگٹ کلنگ گروہ کا اہم رکن گرفتار

May 09, 2018

 کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے گروہ کا اہل رکن گرفتار کر لیا گیا۔ سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق گرفتار ٹارگٹ کلر محمد اسماعیل عرف مفتی ہزارہ برادی کے افراد اور 6 سیکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی پولیس اعتزاز احمد گورائیہ نے سی ٹی ڈی کمپلیکس کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ قاری حافظ محمد اسماعیل مینگل عرف مفتی عرف خالد کو گزشتہ شب خفیہ اطلاع پر ہزارگنجی کے قریب کلی شاہ محمد میں چھاپہ مار کر گرفتار کیا ۔ گرفتار دہشتگرد کالعدم تنظیم کے اس ٹارگٹ کلر گروہ کا حصہ تھا جس نے دو سالوں کے دوران پولیس اور ایف سی اہلکاروں اور ہزارہ برادری کے افراد سمیت چالیس سے زائد لوگوں کو قتل کیا۔ ملزم خود جنوری اور جون 2016ءمیں ٹارگٹ کلنگ کی تین وارداتوں میں شریک رہا جس میں پرانی سبزی منڈی میں پرچون کی دکان پر فائرنگ کرکے شہریوں سمیت دو پولیس اہلکاروں اور ڈبل روڈ پر چار ایف سی اہلکاروں کو قتل کیاگیا۔

 انہوں نے کہا  کہ گروہ کے ارکان میں نجیب بادینی، اسد عرف خالد، نعمان، عبدالخالق، ابراہیم ،عمر، قاہر خان کاکڑ، نعیم کاکڑ، اکرم زہری اور اعجاز شامل تھے ۔ان میں چھ مختلف مقابلوں میں مارے گئے جبکہ چار دہشتگرد مفرور اور افغانستان میں موجود ہیں۔ ’اسد درانی حیدرآباد میں بینک ڈکیتی کے دوران مارا گیاجب کہ نعیم کاکڑ، اعجاز، یوسف اور عبدالخالق کوئٹہ میں ہلاک ہو گئے۔‘

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق اس گروہ نے 2016ءمیں مختلف وارداتوں میں چالیس سے زائد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی جن میں پولیس اور ایف سی اہلکار بھی شامل تھے۔ پشتون آباد میں پولیس موبائل پر دو بار حملے کرکے آٹھ اہلکار،جان محمد روڈ پر پراسکیویشن ڈیپارٹمنٹ کے نسیم الرحمان، سیٹلائٹ ٹاﺅن میں بلوچستان کانسٹیبلری کے دو سب انسپکٹر، سیٹلائٹ ٹاون میں شہری کے قتل ،بینک ڈکیتیوں اور بھتہ خوری میں بھی یہ گروہ ملوث رہا ہے۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار دہشتگرد محمد اسماعیل نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ پشتون آباد میں پولیس موبائل پر فائرنگ کرنےوالے ٹارگٹ کلر یوسف نے اس واقعہ میں اپنے قریبی رشتہ دار پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا۔ملزم نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جائنٹ روڈ پر پاسپورٹ آفس کے قریب ٹارگٹ کلنگ کی واردات کے بعد انہوں نے اسلحہ اپنے ایک پیدل ساتھی کو دے دیا اور خود موٹرسائیکل پر فرار ہوگئے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ گروہ کا اہم کارندہ اکرم زہری بھی مفرور ہیں جس کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے رکھی گئی ہے اور ہماری اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔ گروہ کا دوسرا رکن محمود عرف ابراہیم افغان سرحدی علاقے برآمچاہ میں موجود ہے۔ ’سی ٹی ڈی پولیس دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کی تصاویر اخبارات میں شائع کرارہی ہے تاکہ عوام کی مدد حاصل کی جاسکے۔‘

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہاکہ مسیحی برادری کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشتگردی کی حالیہ وارداتوں میں ملوث گروہ کی نشاندہی بھی ہوگئی ہے جسے جلد گرفتارکرلیں گے۔

 

Hazara target killing

Tabool ads will show in this div