احسن اقبال پر حملہ،ملزم کا تعلق تحریک لیبک سے ہے،رائٹرز

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی ابتدائی رپورٹ پنجاب حکومت کو ارسال کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آسانی سے فائرنگ کی، حملے میں 30 بور کا پستول استعمال ہوا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹڑز کے مطابق حملہ آور کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔

ڈپٹی کمشنر نارروال کے مطابق احسن اقبال پر حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی، جسے پنجاب حکومت کو ارسال کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جلسے کے اختتام پر رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے گولي چلائی، گولي احسن اقبال کی کہني سے لگتے ہوئے پيٹ ميں جالگي۔

 

رپورٹ میں مزید درج ہے کہ ايليٹ فورس کے جوانوں نے گولي چلانے والے ملزم کو گرفتار کيا، حملہ آور نے 15 فٹ کی دوری پر تیس بور کے پستول سے گولی چلائی۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق شکر گڑھ سے ہے، جو کارنر میٹنگ کی تقریب میں موٹر سائیکل پر شرکت کرنے آیا،ملزم کی موٹر سائیکل کو بھی قبضے میں لے لیا گیا، واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

     

حملے کی ایف آئی آر ملزم کے خلاف درج کرلی گئی ہے، مقدمہ 73/18 اے ایس آئی محمد اسحاق کی مدعیت میں تھانہ غریب شاہ میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل، ناجائز اسلحہ اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں،ایف آئی آر کے مطابق احسن اقبال پر قتل کی نیت سے فائر کیا گیا، فائرنگ تقریب ختم ہونے کے بعد کی گئی۔

     

حملہ آور کون تھا ؟

نارووال کے علاقے کنجروڑ میں کارنر میٹنگ کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ کرنے والے ملزم کا نام عابد بتایا گیا ہے۔ حملہ آور کا تعلق شکر گڑھ سے، جب کہ اس کی عمر اکیس سال ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق حملہ آور کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔ ملزم نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے ختم نبوت کے معاملے پر احسن اقبال پر حملہ کیا ،یہ فیصلہ میرا ذاتی تھا، جس میں اور کوئی شریک نہیں۔ پولیس نے ملزم عابد حسین کے اعترافی بیان کی مزید تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کیں۔ ملزم کا پورا نام عابد حسین ولد محمد حسین ہے، جس کی تاریخ پیدائش 13 مئی 1995 ہے۔ جبکہ اس کا تعلق کنجروڑ تحصیل شکر گڑھ سے ہے۔

حملے کا مقصد:

ایجنسی رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے ختم بنوت کے معاملے پر احسن اقبال پر حملہ کیا۔ واضح رہے یہ وہی جماعت نے جس کی جانب سے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ختم بنوت کے معاملے اور حلف نامے میں تبدیلی پر پرتشدد احجاج کیا گیا، پرتشدد مظاہروںکے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنا گیا تھا۔ بعد ازاں اعلیٰ قیادت کی یقین دہانی پر تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

 

دوسری جانب تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے اپنے بیان میں احسن اقبال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسلحہ سے لیس نہیں اور نہ ہی ان کی جماعت میں کسی کو اسلحہ لینے کی اجازت ہے۔

 

صورت حال کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدرات خصوصی اجلاس آج پنجاب میں ہوگا۔ واضح رہے کہ اتوار 6 مئی کو نارروال میں عوامی تقریب کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے حلقے میں موجود تھے کہ حملہ آور نے ان پر فائرنگ کردی، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ انہیں مقامی اسپتال اور  بعد ازاں ایئر ایمبولینس کے ذریعے لاہور کے  سروسز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اب کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

 

حملے کے خلاف ملکی اور غیر ملکی رہنماؤں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے، جب کہ سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ خبر بریکنگ نیوز کی طرح شائع کی گئی۔

پس منظر:

واضح رہے کہ گزشتہ روز اتوار کو نارروال میں ایک چھوٹی سے تقریب کے دوران حملہ آور نے احسن اقبال پر فائرنگ کی، جس سے ان کے دائیں بازو اور پیٹ میں گولیاں لگیں۔ بعد ازاں انہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر سروسز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی نگہداشت کے وارڈ میں ہی رکھا جائے گا۔ دوسری جانب احسن اقبال کے صاحبزادے نے بھی والد کی جلد صحت یابی اور تندرستی کیلئے عوام سے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

INTERIOR MINISTER

Tabool ads will show in this div