علی گڑھ یونی ورسٹی میں تیسرے روز بھی کشیدگی برقرار

بھارت کی علی گڑھ یونی ورسٹی میں قائد اعظم کی تصویر ہٹانے کے تنازعے پر تاحال کشیدگی برقرار ہے۔ یونی ورسٹی کے احاطے میں دفعہ ایک سو چوالیس جب کہ انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے۔

کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے یونی ورسٹی کیمپس کے اندر اور باہر سیکیورٹی اہل کاروں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔ یونی ورسٹی کی طلبہ تنظیموں کی جانب سے انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسندوں کے خلاف دھرنے تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ کسی بھی ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلئے یونیورسٹی میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ اور انٹر نیٹ کی سہولت منقطع ہے۔

پس منظر:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بی جے پی کے مقامی رکن پارلیمنٹ ستیش کمار گوتم نے یونیورسٹی کے یونین ہال میں 1938 سے آویزاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے کیمپس کے اندر تنظیم کے دفاتر کھولنے کی اجازت بھی مانگی تھی، طلبہ اور اساتذہ انتہاپسند تنظیموں کے مطالبات کی مخالفت کر رہے ہیں، جس پر انہیں طلبا کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

     

اس سے قبل قانون ہفتہ کے روز انتہا پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے کی کو شش، جس پر جامعہ کے طلبا نے انہیں اندر داخل ہونے سے روکا، اسی دوران نافذ کرنے والے اداروں، انتہا پسند ہندوؤں اور طلباء کے درمیان تصادم میں چالیس سے زائد اسٹوڈنٹس زخمی ہوئے۔

MUSLIMS

STUDENTS

Hindu Extremist

ALIGARH UNIVERSITY

Tabool ads will show in this div