احسن اقبال پر حملہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

 

وفاقی وزير داخلہ احسن اقبال پر حملے کی سوشل ميڈيا پر بھی شديد مذمت کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نارووال میں کارنر میٹنگ سے خطاب کے بعد واپس جارہے تھے کہ مقامی شہری عابد حسین نے ان پر فائرنگ کردی، مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء کے دائیں بازو میں ایک گولی لگی جس پر انہیں مقامی اسپتال منتقل کردیا۔

وفاقی وزير پر قاتلانہ حملہ پر سوشل ميڈيا پر بھی افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے، ٹوئٹس کی بھرمار ہوگئی، احسن اقبال پر حملہ ٹاپ ٹرينڈ بن گيا۔

سوشل ميڈيا صارفين بھی دعاگو احسن اقبال کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔

پاکستان ہی نہيں انٹرنيشنل ميڈيا نے بھی خبر کو بريکنگ نيوز بنائے رکھا۔

حسن جاويد نے  تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ وزير داخلہ اپنی حفاظت نہيں کرسکتا تو 22 کروڑ عوام کی کيا کرے گا۔

مياں داؤد کہتے ہيں کہ اليکشن ملتوی کرانے کے منصوبے کی شروعات کردی گئی۔

ذیشان سعید نے وزیر داخلہ کی جلد صحتیابی کی دعا جبکہ ملک آفتاب نے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

سيد مصطفیٰ کہتے ہيں کہ کوئی کرپٹ ہو يا نہ ہو احسن اقبال وزير داخلہ ہيں، ان پر حملے کی مذمت کرنی چاہئے۔

ARMY CHIEF

PUNJAB

INTERIOR MINISTER

QAMAR JAVED BAJWA

Abid Hussain Arrest

Zaffar Mehmood

Tabool ads will show in this div