مصری صدر مرسی کیخلاف سماعت، عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے

اسٹاف رپورٹ


قاہرہ : مصر میں معزول جمہوری صدر محمد مُرسی پر مقدمہ 'الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے' کے مصداق ہوگیا، کل تک جس کٹہرے میں ڈکٹیٹر حسنی مبارک الزامات کا سامنا کررہے تھے، وہی کٹہرا جمہوری صدر کا مقام ٹھہرا،عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے۔


مصر میں دہائیوں پر پھیلی آمریت کا خاتمہ ہوا اور حسنی مبارک عوامی مظاہروں کے دوران قتل عام کے الزام میں کٹہرے تک لائے گئے، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی، نہ کوئی عوامی احتجاج ریکارڈ ہوا مگر پھر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی، اسی کٹہرے میں منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کو لایا گیا، جس پر عوام میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور شہر کے شہر سراپا احتجاج ہوگئے۔


عدالت کی سماعت پر عوامی احتجاج کی صدا ناگوار گزری، کارروائی 8 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔ فوج کی فوج جمہوریت پسندوں کو عدالتی کارروائی میں خلل سے باز نہ رکھ سکی۔


عدالتی کارروائی کے دوران معزول صدر نے کہا کہ وہ مصر کے جائز جمہوری صدر ہیں۔ عدالت کے باہر خواتین، بچے اور مرد سب ہی مرسی کی آواز سے آواز ملا رہے تھے۔ سماء

پر

ایک

Blasphemy

ODIs

birthday

clean

کیخلاف

Tabool ads will show in this div