بلوچستان،کوئلہ کانوں میں حادثات،جاں بحق مزدوروں کی تعداد23 ہوگئی

رپورٹ زین الدین

بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں دو حادثات کے دوران جاں بحق مزدوروں کی تعداد تیئس تک پہنچ گئی ہیں۔ حادثے میں متعدد کان کن زخمی بھی ہوئے۔ امدادی کارروائیوں مکمل کرلی گئی ہیں، جب کہ تین مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا۔


کوئٹہ میں ایک ہی دن میں دو حادثات میں جاں بحق کان کنوں کی تعداد تیئس تک پہنچ گئی، جب کہ حادثات میں متعدد مزدور زخمی بھی ہوئے۔ پہلا حادثہ کوئٹہ سے پچاس کلومیٹر دور مارواڑ میں اور دوسرا کوئٹہ سے تیس کلومیٹر دور پی ایم ڈی سی کے قریب پیش آیا۔ دونوں حادثات کان میں میتھین گیس بھرنے کے باعث پیش آئے۔

مارواڑ میں ملبے تلے دبنے والے کان کنوں کی لاشوں کو نو گھنٹے بعد نکال لیا گیا۔ امدادی سرگرمیوں کے دوران درجن سے زائد کان کن بے ہوش بھی ہوئے، جنہیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔  کان کنوں کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں حفاظت کا کوئی بندوبست موجود نہیں۔ حادثے میں سولہ کان کن جاں بحق ہوئے۔

         

ایک کان کن کا کہنا تھا کہ ساڑھے دس بجے یہ دھماکا ہوا اور ہمیں ریسکیو کرنے ٹیمیں ساڑھے تین بجے آئیں۔ اگر کوئی انتظامات ہوتے تو ہمارے ساتھی اس طرح اسپتال میں نہ پڑے ہوتے، جب کہ دوسرے کانکن نے بتایا کہ کوئی انتظامات نہیں ہیں، نہ کمپنی کی طرف سے نہ مینجروں کی طرف سے۔ بس وہ کہتے ہیں ہمارے لئے کوئلہ نکالا کروں کیونکہ اس میں ان کیلئے پیسے ہیں۔ کان میں ہوا کا کوئی بندوبست ہی نہیں۔

 

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ فرخ عتیق کے مطابق مارواڑ پیر اسماعیل کی میر کول کمپنی کی ایک کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث دھماکا ہوا۔ دھماکے سے قریب کی دو مزید کانیں بھی زد میں آگئیں اور تینوں کانوں میں ملبہ گرنے سے سولہ مزدوروں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ سول اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق اسپتال لائے گئے کان کنوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی، تاہم ابتدائی طبی امداد کے بعد اب کان کنوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

             

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پی ایم ڈی سی کے قریب لیز نمبر 98 کی ایک کان میں پیش آنے والے حادثے میں سات کان کن جاں بحق، جب کہ پانچ زخمی ہوئے۔ حادثہ میتھین گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا۔ ریسکیو ٹیموں کا امدادی آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا۔ دھماکے سے کان کا ایک حصہ بھی بیٹھ گیا۔ جاں بحق اور متاثر ہونے والے تمام کان کنوں کا تعلق سوات ،شانگلہ اور ملحقہ علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق جاں بحق مزدوروں کی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں۔

 

واضح رہے کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع میں کوئلے کی صنعت سے تیس ہزار کانکنوں کا روزگار وابستہ ہے، جن کی جانیں حفاظتی انتظامات اور مناسب آلات نہ ہونے کے سبب اکثر داؤ پر لگی رہتی ہیں۔ ہر سال اوسطاً 100کاننکن کوئلہ کانوں میں گیس دھماکوں، مٹی کے تودے گرنے، ٹرالی کی رسی ٹوٹنے سمیت مختلف حادثات کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مائنز لیبر یونین کے رہنماﺅںکا موقف ہے کہ مائنز ایکٹ ایک صدی پرانا ہوگیا ہے اور اس میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس ایک صدی پرانے قانون پر بھی صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا۔ کوئلہ کان مالکان اور ٹھیکیدارمزدوروں کی جانوں سے کھیلتے ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

                   

حادثات کی وجوہات:

چیف انسپکٹر مائنز افتخار  احمد خان کا کہنا ہے کہ حادثات کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ کان کنوں کی غفلت ہے۔ کانوں میں حادثات اکثر تب پیش آتے ہیں، جب کان کن چھٹی کے دن کے بعد ہفتے کی صبح کان میں اترتے ہیں۔ کان کن ہر جمعرات کی شام سے کام بند کرکے جمعہ کے دن بھی مکمل چھٹی کرتے ہیں، عموما اس دوران کان میں گیس جمع ہوتی ہے۔ ہفتے کی صبح جب وہ کان میں اترتے ہیں تو کان مںں گیس چیک کرنے سے پہلے ہی کام شروع کردیتے ہیں۔ اسی طرح کان حادثات کی بڑی وجہ مالکان کی جانب سے کوئلہ کانیں ٹھیکے پر دینا بھی ہے۔ ٹھیکیدار ٹھیکے کی مدت کے دوران کانکن کی جان کی قیمت پر زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کما سکیں۔ مائنز ایکٹ بھی تقریبا ایک صدی پرانا ہے اس میں غفلت بھرتنے پر سزائیں بہت کم ہیں۔

KILLING

COLLAPSE

LABOURS

coalmine

Tabool ads will show in this div