اسٹاک ہوم، نوبل اکیڈمی کے کئی اراکین مستعفیٰ ہوگئے

People gather at Stortorget square in Stockholm while the Swedish Academy held its weekly meeting at the Old Stock Exchange building seen in the background on April 19, 2018. - The participants gatheres to show their support for former Academy member and Permanent Secretary Sara Danius who stepped down last Thursday by wearing her hallmark, a tied blouse. (Photo by Fredrik Persson / various sources / AFP) / Sweden OUT        (Photo credit should read FREDRIK PERSSON/AFP/Getty Images)
People gather at Stortorget square in Stockholm while the Swedish Academy held its weekly meeting at the Old Stock Exchange building seen in the background on April 19, 2018. - The participants gatheres to show their support for former Academy member and Permanent Secretary Sara Danius who stepped down last Thursday by wearing her hallmark, a tied blouse. (Photo by Fredrik Persson / various sources / AFP) / Sweden OUT (Photo credit should read FREDRIK PERSSON/AFP/Getty Images)

سوئڈین سے جاری خبروں کے مطابق کرپشن اور جنسی ہراسائی کے اسکینڈل پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نوبل اکیڈمی کے کئی اراکین نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد اس سال ادب کا نوبل انعام دینے کا معاملہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری خبروں کے مطابق اسٹاک ہوم میں نوبل انتظامیہ بورڈ کا اجلاس کورم پورا ہوئے بغیر آج ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ججز کمیٹی کا پینل 18 ججز پر مشتمل ہے، جب کہ 5 غیر فعال میں سے 2 خواتین ججز کئی سالوں سے چھٹیوں پر ہیں، تین رکن عہدے سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں۔ کورم پورا کرنے کیلئے بارہ اراکین کا موجود ہونا لازمی ہوتا ہے، تاہم آج ہونے والا اجلاس صرف دس اراکین پر مشتمل ہوگا۔ اجلاس میں نوبل انعام میں تاخیر یا پھر نہ دئیے جانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں نوبل اکیڈمی کی اہم عہدے دار کے شوہر اور سوئڈین کے معروف فوٹو گرافر اور بااثر شخصیت کے جنسی اسکینڈل سامنے آنے پر نوبل اکیڈمی اور انعام پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی، خبریں سامنے آنے پر نوبل انعام برائے ادب کے تین جج صاحبان اپنے عہدوں سے احتجاجاً مستعفی ہوگئے تھے۔ نوبل ادب کمیٹی کے ان تینوں منصفین کلاس اوسٹرگرین ،جیل ایسپمارک اور پیٹر اینگلنڈ نے مشترکا بیان جاری کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ سویڈش اکیڈمی کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ قدم بااثر شخص کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اٹھایا۔

 

استعفیٰ دینے والے تینوں ججز کا تعلق ادب کمیٹی سے ہے، جب کہ جس رکن کے خلاف خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام سامنے آیا ہے اس کا تعلق بھی اسی کمیٹی سے ہی ہے۔

 

نوبیل کمیٹی میں جنسی اسکینڈل کا یہ معاملہ گزشتہ برس نومبر میں شروع ہونے والی خواتین کی عالمی مہم’ می ٹو‘ کے بعد سامنے آیا تھا۔

 

سویڈش اخبار ڈیجینز نائی ہیٹر کی رپورٹ کے مطابق 18 عورتوں نے اسٹاک ہوم کے کلچرل سینٹر کے سربراہ ژاں کلاڈ آرنالٹ کے خلاف جنسی حملے اور ہراسیت کے الزامات عائد کیے، خبروں کے مطابق معروف ثقافتی شخصیت کے نوبل اکیڈمی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس کے باعث وہ نوبل اکیڈمی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 18 ارکان پر مشتمل نوبل کمیٹی میں شامل جج صاحبان کا تاحیات تقرر کیا جاتا ہے اور فنی طور پر انھیں کمیٹی کو خیرباد کہنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔1989ء میں تین منصفین نے اکیڈمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور انھوں نے یہ فیصلہ اکیڈمی کی جانب سے ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی مذمت میں بیان جاری نہ کرنے پر کیا تھا لیکن اکیڈمی نے ان کا استعفا منظور نہیں کیا تھا۔آیت اللہ خمینی نے اس وقت توہین آمیز کتاب کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔

 

واضح رہے کہ اس سے قبل جنگ عظیم دوئم اور نازیوں کے یورپ پر قبضے کے باعث صرف ایک بار نوبل ایوارڈ نہیں دیا گیا تھا۔

SEXUAL

stockholm

sex scandal

#MeToo

Tabool ads will show in this div