کالمز / بلاگ

پاکستان کرکٹ ٹیم کا انگلش کنڈیشنزمیں مشکل امتحان

Apr 30, 2018
 

پاکستان ٹیم ایک مشکل امتحان کےلیے انگلینڈ میں موجود ہے۔ کرکٹ کے دیس میں کھیلنا اور عمدہ پرفارم کرنا ہرٹیم کےلیےاہم ہوتاہے۔پاکستان ٹیم سرفرازکی قیادت میں انگلینڈ میں دو ٹیسٹ اور اس سے قبل آئرلینڈ میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلےگی۔آئرلینڈ کی ٹیم کایہ پہلا ٹیسٹ ہوگااور وہ بہت جوش اور ولولےکےساتھ میدان میں اترےگی۔

پاکستان ٹیم نے مصباح الحق کی قیادت میں 2016 میں انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی۔ اس سیریز میں پاکستان کےبالرزکاجادو سرچڑھ کربولاتھا۔ عامر اوریاسر کاساتھ دینےکےلیے وہاب ریاض موجود تھے۔پاکستان نے یہ سیریز دو دو سے برابر کی تھی۔ مصباح الحق کی بیٹنگ اور یونس خان کی مہارت نے اس سیریز میں کلیدی کردار اداکیا تھا۔ تاہم اب بازی پلٹ چکی ہے۔یونس اور مصباح ریٹائرہوچکےہیں جبکہ وہاب ریاض خراب کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہیں اور یاسرشاہ ان فٹ ہیں۔ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہیں۔ ٹیم میں کئی نئے چہرے موجود ہیں۔ پاکستان کے بالنگ اٹیک میں اس بار محمد عامر کا ساتھ دینے کےلیے راحت علی،حسن علی اور فہیم اشرف موجود ہونگے۔ فٹنس مسائل کے باعث یاسر شاہ اسکواڈ کاحصہ نہیں ہیں اس لیے شاداب خان کوٹیم میں بطورلیگ اسپنر شامل کیاگیاہے۔

عبدالقادر کےعروج کےدورمیں مشتاق احمد نے عبدالقادرسے بہت کچھ سیکھا۔ان کےبعد،مشتاق احمد سے لیگ بریک بالنگ کا فن دانش کنیریامیں منتقل ہوا اور پھر یاسرشاہ اور اب شاداب خان کی بالنگ انگلینڈ کی پچزپراہم ہوگی۔ برطانوی بلےبازاسپن بالنگ کےسامنے ہمیشہ مشکلات کا شکاررہے ہیں۔ بل کھاتی گیندیں انگلینڈ بیٹسمینوں کی وکٹیں گراتی رہی ہیں۔ شاداب خان اگر اس دورےپرکامیاب ہوجاتے ہیں توان کےٹیسٹ کیرئیر کوبھی دوام ملےگا۔

بات ہوجائےبیٹسمینوں کی،اظہرعلی سمیت اسدشفیق ،بابراعظم اورکپتان سرفرازاس دورےپرٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں کلیدی کردار اداکریں گے۔بیٹسمینوں کواپنی تیکنیک کےساتھ ذہنی طورپربھی مضبوط ہوناہوگا۔اس موسم میں انگلش پچزمیں سیم اور سوئنگ عروج پرہوتاہے۔ بیٹسمینوں کو پاؤں کی حرکات سمیت درست شاٹ سلیکشن پرزوردیناہوگا۔ انگلینڈ کے بالرز اپنے ہوم گراؤنڈزپر انتہائی خطرناک ہوتےہیں۔ کسی بھی ٹیم کے بیٹسمین کےلیے انگلینڈ کی کنڈیشنزمیں پچ پررک کرکھیلنا انتہائی مہارت کی بات ہوتی ہے۔پاکستانی بیٹسمین تحمل اور اعتماد کےساتھ اس چیلنج پرپورااترسکتےہیں۔ انگلش ٹیم میدان میں حریفوں کواپنی گیندوں کےساتھ جملوں سے بھی زچ کرنےکافن جانتی ہے۔ پاکستانی کھلاڑی کسی تنازع میں پڑے بغیراگر صرف کھیل پر توجہ دیں توکوئی شبہ نہیں کہ نتائج پاکستانی ٹیم کے حق میں آئیں۔

کپتان سرفرازکےلیے یہ دورہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ سرفرازکی قائدانہ صلاحیتوں کاامتحان ہوگاکہ وہ کس طرح اپنےکھلاڑیوں کومیدان میں جواں مردی سے لڑائیں۔ کپتان کےلیے اہم ہوگاکہ وہ میدان میں اپنےجذبات پرقابورکھتےہوئے کھلاڑیوں سے ان کی صلاحیت کےمطابق بہترنتائج حاصل کریں۔ سرفرازکو چاہئے کہ وہ  سابق کپتان مصباح الحق کی قائدانہ حکمت عملی کوآگے لےکرچلیں ۔

انگلینڈکامیڈیا بھی ہمیشہ سے غیرملکی ٹیموں کےلیے مشکلات کاسبب بنتارہاہے۔ جب بھی کوئی ٹیم دورےپرآتی ہے،انگلش میڈیا نت نئی خبریں تلاش کرنےاورانھیں مختلف زاویے دینےمیں ماہرہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کےلیےلازم ہے کہ وہ یہ بات جان لیں کہ انگلینڈ میں وہ پاکستان کے سفیر ہیں۔ انھیں ٹیم مینجمنٹ کی ہدایات پرسختی سے عمل کرناہوگا۔ ٹیم کےجونیئرکھلاڑیوں کوبھی سینیئرکھلاڑیوں کےتجربےسے سیکھناہوگا۔ ٹیم کےلیے یہ اہم ہوگاکہ وہ آف دی فیلڈ بھی کسی منفی سرگرمی سے گریزکریں۔ ماضی میں انگلینڈ کامیڈیاپاکستانی کرکٹرزکےلیے کافی مشکلات کھڑی کرچکاہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے تقریبا ہردورےمیں انگلینڈ میڈیا کی منفی شہہ سرخیوں پر کافی تنازعات کھڑےہوئے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کےمیڈیا ڈپارٹمنٹ پر بھاری ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایسی کسی منفی رپورٹنگ پر نظر رکھے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم جدید دور کی کرکٹ کھیل کر انگلینڈ کے میدانوں میں اپنی دھاک بٹھاسکتی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کےموجودہ اسکواڈ میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کاملاپ موجودہے۔ٹیم جیت کےلیے پرعزم ہے۔ کھلاڑیوں کےپاس موقع ہےکہ وہ انگلینڈ کےمیدانوں میں خود کو منوائیں ۔انگلینڈ کے میدانوں پرپاکستان کرکٹ ٹیم نےاچھا پرفارم کیاہے۔محمد عامر ہوں یا وسیم اکرم،وقاریونس ہوں یا حسن علی، بابراعظم ہوں یا محمد یوسف،شاداب خان ہوں یا یاسرشاہ، ان گراؤنڈزپر بہترین کارکردگی دکھاکرپاکستانی اسٹارزسپراسٹارزبن سکتےہیں۔

ENGLAND

Tabool ads will show in this div