سندھ ہائیکورٹ نے اسکول فیسوں میں من مانا اضافہ روک دیا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/04/School-Fee-KHI-PKG-24-04.mp4"][/video]

کراچی : سندھ ہائيکورٹ نے اضافی فيس وصولی سے روک ديا، ریمارکس دیئے کہ فی الحال اسکولز 5 فيصد اضافی فيس وصول کريں، مکمل پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ والدین پر بوجھ نہ پڑے۔

ننھے بچے بستے اٹھائيں، والدين فيسوں کے بوجھ اٹھائيں، سندھ ہائیکورٹ نے اسکولز کو فیسوں میں 5 فيصد سے زائد اضافہ روک دیا۔

درخواست گزار کے وکيل نے بتايا کہ بیکن ہاؤس اور دیگر اسکولز نے  حکم امتناع کے باوجود فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ کے واؤچر جاری کئے، توہين عدالت کی کارروائی کی استدعا بھی کردی۔

عدالت نے ريمارکس دیئے کہ یہ بھی المیہ ہے کہ حکومت اپنا کام نہیں کررہی، سرکاری اسکول تباہی کا شکار ہیں، صرف فیسوں کا معاملہ نہیں مکمل پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ والدین پر بوجھ نہ پڑے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اسکول کی رجسٹریشن سے ریگولیشن تک مکمل اور جامع پالیسی ہونی چاہئے، رجسٹریشن اور ایڈمشن فیس کے نام پر 2، 2 لاکھ روپے لئے جاتے ہیں، کيا اس کا کوئی جواز ہے؟۔

ايڈيشنل ايڈووکيٹ جنرل نے بتايا کہ اسکول فيسوں پر فيصلہ اب لارجر بيچ کرے گا۔

دوسری جانب والدین نے اسکولوں کی جانب سے جون جولائی کی چھٹیوں کی فیسوں پر بھی اعتراض کیا، پوچھا کہ اسکول انتظامیہ اپنے منافع میں سے اساتذہ کو تنخواہ کیوں نہیں دیتی؟، اسکول وینز والے بھی جون جولائی کی چھٹیوں کی فیس لیتے ہیں۔

پرائیوٹ اسکول مینجمنٹ کے رکن شرف زمان کا کہنا ہے کہ جون جولائی کی چھٹیوں کی فیس اگلے سال کے انتظامات کیلئے لی جاتی ہے، میٹرک پاس کرنیوالے طلبہ سے چھٹیوں کی فیس نہیں لیتے۔

5%

Tabool ads will show in this div