تل تل مرتے تھر کا پی پی سرکار اور بلاول سے سوال؟

کراچی : تھر ميں ایئر پورٹ بن گيا، کوئلے کا خزانہ ہے، ماڈل ٹاؤن بن رہے ہيں ليکن صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہے، بچے روز مررہے ہيں، 20 روز ميں 28 بچے جان سے گئے، ساڑھے 16 لاکھ کی آبادی کیلئے صرف ایک گائناکولوجسٹ ہے۔

سماء کے پروگرام نيا دن کے میزبان علی عارف تھر پہنچے تو سنگین حالات اور تہلکہ خيز انکشافات سامنے آئے۔

سائيں سرکار نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے کہ تھر بدلے گا پاکستان، جہاں ایئرپورٹ، سڑکیں اور ماڈل ٹاؤن بن رہے ہیں مگر عوام کیلئے صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔

سندھ کی سب سے پسماندہ وادی تھر کی 16 لاکھ آبادی کیلئے صرف ایک گائناکولوجسٹ ہے، اسپتال میں بستر اور ايمبولينس ہے مگر ڈاکٹر اور پیٹرول نہیں۔

نيا دن کے اينکر علی عارف نے تھر کا دورہ کیا، خواتين اور بچے سسک سسک کر کيوں مررہے ہيں؟، اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

سول اسپتال مٹھی کے ايم ايس عامر شاہ نے سائيں سرکار کے دعووں کا بھانڈا پھوڑ ديا۔ کہتے ہیں کہ 2 وینٹی لیٹر پڑے ہیں، ابھی تک استعمال نہیں کئے گئے، سٹی اسکین کیلئے حیدرآباد جانا پڑتا ہے، 25 میں سے 13 انکیوبیٹر خراب ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال اتنی خراب ہے کہ ايمبولينس کے پیٹرول کیلئے پیسے نہیں، پمپ نے پیٹرول روک دیا، ايندھن کا خرچہ بھی تھر واسی اپنا خون پيسنہ جلا کر ادا کرتے ہيں۔

فنکشنل لیگ کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی بھی نيا دن ميں سائيں سرکار پر خوب گرجيں، بولیں کہ کيا آسمانی صحيفے لا کر دکھائيں۔

BILAWAL

HEALTH

Children Death

NAYA DIN

Tabool ads will show in this div