حب سے واٹر ٹینکرزپر پابندی،نرخ تین گنا بڑھ گئے

کراچی : مواچھ گوٹھ، بلدیہ،نیول کالونی،اتحاد ٹاؤن،اورنگی ٹاؤن،گڈاپ سمیت کراچی کے متعدد علاقوں میں پانی کا سنگین بحران  لسبیلہ کینال سے ٹینکرز پر پابندی کے بعد سامنے آیا ہے اور ان علاقوں کے مکین مسلسل احتجاج کرر ہے ہیں جس کا ایک عملی نمونہ گزشتہ دنوں پی ایس پی رہنما سیف الدین خالد کے انوکھے احتجاج کی شکل میں نظر آیا جس میں ان کا مؤقف تھا کہ اورنگی ٹاؤن کے پیاسے مکینوں کے لئے پانی کے 100 ٹینکرز مہیا کئے جائیں جب کہ 2000 میں فروخت ہونے والا ٹینکر 6000 میں بھی ناپید ہے۔ 

قصہ شروع ہوا تھا آج سے10 دن قبل جب ڈی سی لسبیلہ شبیر احمد مینگل نے چیف سیکریٹری اور کمشنر قلات کو لسبیلہ کنال سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکرز کے ذریعے کراچی کو پانی کی فراہمی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مراسلہ لکھا، جس کے بعد لسبیلہ کنال پر واقع درجنوں غیر قانونی ہائیڈرینٹس کو مسمار کرنے کے علاوہ 20 کے قریب لوگوں پر ایف آئی آر درج کی گئی۔

ڈی سی لسبیلہ نے سماء کو بتایا کہ بلوچستان حکومت کا شدید دباؤ تھا کہ ہم پانی کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پائیں مگر ایریگیشن ڈپارٹمنٹ اور پولیس کی ملی بھگت کی وجہ سے اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جاسکا تھا، دوسری طرف کراچی اور لسبیلہ کو پانی فراہم کرنے والے حب ڈیم میں پانی کی سطع ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی اور اگر فوری طور پر اس پر قابو نہیں پایا جاتا تو پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا تھا، اس لیے اس پر چھاپہ مار کارروائیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس کو کئی سیاسی اور قبائلی عمائدین چلا رہے تھے یا ان کی حمایت کررہے تھے مگر ہم نے اس پر بلا تخصیص کارروائی کی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایم ڈی واٹر بورڈ کراچی کے مطابق حب ڈیم سے کراچی کو سپلائی ہونے والا پانی 115 ایم جی ڈی سے کم ہو کر محض 30 ایم جی ڈی رہ گیا ہے جس سے کراچی کے متعدد علاقوں اورنگی ٹاؤن،بلدیہ،سائٹ،گڈاپ اور ناظم آباد میں پانی کا سنگین بحران سامنے آرہا ہے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت حب ڈیم کا70 فیصد پانی آج بھی کراچی کو سپلائی کیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی مگر وہ ٹینکرز جو غیر قانونی طریقے سے کراچی پانی کی سپلائی کرتے تھے ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جارہا ہے۔

مزید جانیے : حب، لسبیلہ کینال سے پانی کی چوری،ڈپٹی کمشنر نے نوٹس لے لیا

دوسری طرف کراچی واٹر ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری حضور احمد نے سماء کو بتایا کہ کراچی میں پانی کے اس بحران کا ذمہ دار کراچی واٹر بورڈ خود ہے اور یہ سراسر مصنوعی بحران ہے، جس کا مقصد اپنے ریٹس بڑھانا ہے اور اگر یہ بحران ختم ہوا تو ان کی جیبیں خالی ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ کی اپنی ایماء پر 80 فیصد لائنوں میں چوری کے کنکشن دیئے گئے ہیں جب کہ عوام کو مہیا کیا جانے والا سارا پانی ان کی کرپشن کی وجہ سے صنعتوں کو چوری کر کے بیچا جاتا ہے۔

انہوں نے سماء کومزید بتایا کہ ایم ڈی واٹر بورڈ نے پہلے حب کے علاقے ساکران سے پانی لانے پر پابندی لگائی تھی جو بعد میں خاص مقصد کے تحت ہٹائی گئی۔ حب سے پانی ٹینکرز کے ذریعے لانے پر فی ٹینکر 500 روپے حب پولیس کو اور 200 روپے منگھو پیر تھانے کو جاتے ہیں جس سے 2000 روپے میں فروخت ہونے والا ٹینکر اب 6000 کا ہو گیا ہے۔

ڈی سی لسبیلہ سے دوبارہ رابطہ کرنے پر انہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ لسبیلہ کینال میں موجود تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو مسمار کیا جا چکا ہے اور ان تمام ہائیڈرنٹس کو میری اور اسپشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں دیکھا جا رہا ہے، یہ سارا عمل شفاف ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے واٹر بورڈ کو کراچی میں پانی کی قلت کے شکار اضلاع بالخصوص ضلع غربی میں پانی فراہم کرنے کی ہدایت کردی، غربی میں ایک ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

کراچی کو کینجھر جھیل (دریائے سندھ) اور حب ڈیم سے پانی فراہم کیا جاتا ہے، جس کیلئے 3 بڑے پمپنگ اسٹیشنز دھابیجی، گھارو اور حب میں قائم ہیں۔

حب ڈیم سے شہر قائد کو 100 ملین گیلن روزانہ کی بنیاد پر پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اب کم ہو کر 30 ملین گیلن روزانہ تک رہ گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر غربی طارق چانڈیو کا کہنا ہے کہ فی الحال واٹر بورڈ ٹینکرز کے ذریعے 300 ملین گیلن پانی فراہم کررہا ہے جو ضلع غربی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ضلع غربی کو ٹینکرز کے ذریعے ایک ملین گیلن اضافی پانی فراہم کیا جائے، ڈپٹی کمشنر اس کیلئے ٹینکرز کا انتظام کریں۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ان کے پاس صرف 257 واٹر ٹینکرز ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے 10 لاکھ گیلن پانی صارفین تک پہنچانے کیلئے مزید 100 فائبر ٹینک کا انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی۔

cm sindh

Water crisis

hub dam

MD Water Board

lasbella

Tabool ads will show in this div