انورمقصود کے نام ایک نامہ

تحریر: نیازاحمد کھوسہ

جناب انور مقصود صاحب۔۔ آپ میرے پسندیدہ لکھاریوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا تازہ انور نامہ “ایک سندھی کا انٹرویو” سنا، پہلے دکھ ہوا پھر سنبھل گیا کہ پاکستان بننے کے بعد جو ہجرت کرکے آئے اورسندھ کے مقا می لوگوں نے آپ کو خوش آمدید کہا ہر چیز میں سے آدھا حصہ دیا یہاں تک کہ قومی/صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کی سیٹیں دینے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا،آپ سب کچھ بھول گئے آپ کتنے ہی لبرل ہوجائیں ، کتنا بھی لکھ پڑھ لیں ، آپ کے اندر جو تعصب مقامی لوگوں کے خلاف موجود ہے، وہ کبھی آپ کو غیر جانبدار رہنے نہیں دیگا۔

آپ کا یہ انورنامہ مجھے نہ جانے کیوں سندھیوں سے تعصب پر مبنی آپ کی ایک شعوری کوشش لگتا ہے، اندر کا ایک اظہار، ایک زہر جوشکر کوٹیڈ ہے۔ ورنہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رویہ ایک علی نواز چانڈیو (انور نامے کا کردار) کا نہیں پر ہر اس پاکستانی کا ہے جس کے پاس علاقے کے ایم پی اے یا ایم این اے تک ذاتی رسائی حاصل ہے۔ آپ کے انور نامہ کے علی نواز چانڈیو کو تو قرضہ معاف کروانے کیلئے بار بار مرنا پڑتا ہے پر کے پی کے اور پنجاب کے نجانے کتنے خان، ملک اور چودھری ہیں جو قرضہ لیکر نہ تو مرتے ہیں اور نہ ہی ڈکار لیتے ہیں۔

اس انور نامے میں آپ نے حقائق سے منہ موڑ کر سندھ، سندھی لوگ، ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو دانستہ ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ ضیاءالحق، نواز شریف اور پرویز مشرف کے دور میں اس سے بھی زیادہ بے ایمانی ہوتی رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کے آپ کے علم میں وہ لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے کراچی کی سرکاری زمینوں اور پارکوں پر نہ صرف شادی ہال بنائے اور چائنا کٹنگ کے ذریعے کروڑوں کمائے اور ہتھیار خرید کر کراچی کی سڑکوں پر نفرتوں کی آبیاری کی۔ پر مجھے یقین ہے کہ آپکا لبرلزم صرف سندھیوں کے خلاف بول سکتا ہے، لکھ سکتا ہے کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سندھی سادہ لوح ہیں،امن پسند ہیں، بے ضرر ہیں اس لئے کچھ نہیں کہیں گے جبکہ باقی قومیں وہ ہیں جو اپنے مخالفین کے جسم میں اتنے چھید کرسکتی ہیں کہ لوگ کنفیوز ہوجائیں گے سانس کہاں سے لیں اور ۔۔۔۔۔۔!۔

ویسے بھی جنہوں نے ان بھائی لوگوں کے خلاف لکھنے اور بولنے کی کوشش کی تو ان کے ناپ کی بھری ہوئی بوری شہر کے کسی نہ کسی کونے میں ملتی رہی ہے۔ خیر! ہماری آپ کو دعا ہے آپ اپنے تعصب کے ساتھ خوش رہیں۔ ہم آپ کے پروگرام پھر بھی دیکھتے رہیں گے۔

آپ کا خیر اندیش نیاز احمد کھوسہ۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے جس سے ادارتی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں۔

ANWAR MAQSOOD

Anwar Nama

Tabool ads will show in this div