مسلح افراد کا ایچ آر سی پی کی ایڈیٹر کے گھر پر چھاپہ

لاہور : ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ شائع ہونے کے بعد اپنی ایڈیٹر کے گھر پر ’’ڈکیتی نما‘‘ چھاپے کی مذمت کردی۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دو مسلح افراد ایڈیٹر مریم حسن کے گھر میں زبردست داخل ہوئے اور لیپ ٹاپ، دو ہارڈ ڈرائیو، دو موبائل فون، جیولری اور نقدی لوٹ کر لے گئے۔

اعلامیے کے مطابق مسلح افراد نے مریم حسن سے ان کے پیشہ سے متعلق سوالات کئے اور دھمکیاں دیں، حملہ آور کوئی معمولی چور نہیں تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے ان کی شناخت منظر عام پر لائی جائے، کمیشن سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوشش کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

ایچ آر سی پی ایگزیکٹو کونسل کی رکن ماروی سرمد نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ میڈیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے بعد اب انسانی حقوق کے نمائندے ہدف ہیں، ہم اس معاملے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ایچ آر سی پی کی 16 اپریل کو جاری ہونیوالی سالانہ رپورٹ میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اضافہ، توہین مذہب کے جھوٹے الزامات اور خواتین کیخلاف جرائم میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان میں صحافی اور بلاگرز کو دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ انہیں حملوں اور اغواء کئے جانے کا بھی سامنا ہے۔

JOURNALISTS

raid

bloggers

Tabool ads will show in this div