کالمز / بلاگ

فواد عالم ایک بار پھر نظر انداز

سرفراز احمد کی قیادت میں قومی کرکٹ ٹیم دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کےلیے 23 اپریل کو روانہ ہوگی۔ دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کیلئے 16 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کیا جاچکاہے۔ سرفراز احمد (کپتان) اظہرعلی، فخر زمان، امام الحق ، سمیع اسلم، بابراعظم، حارث سہیل، اسد شفیق، صلاح الدین، سعد علی، حسن علی، شاداب خان، فہیم اشرف، محمد عامر، راحت علی  اور محمد عباس شامل ہیں۔

دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے ٹیسٹ اسکواڈ کے اعلان سے قبل  تربیتی کیمپ لگایا گیا تھا۔ جوکہ 23 کھلاڑیوں پر مشتمل تھا۔ جس میں فواد عالم کو بھی شامل کیاگیاتھا۔  جس کے بعد ہر طرف سے یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ مسلسل نظرانداز کیے جانےکے بعد بالآخر قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع مل ہی جائےگا۔ فواد کی سلیکشن کے حوالے سے شائقین کی جانب سے کچھ اس لیے بھی پراعتمادی کا مظاہرہ کیا جارہا تھاکہ نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں میں اُنکی فٹنس متاثرکن ہے۔  15 اپریل 2018 اتوار کو دورہ انگلینڈ کےلیے اعلان کردہ ٹیسٹ اسکواڈ میں فواد عالم کا نام شامل نہ ہونا چیف سلیکٹر اور سلیکشن کمیٹی کی سلیکشن پر سوالیہ نشان ہے۔

شائقینِ کرکٹ اور سینئر صحافی بھی ٹیسٹ کرکٹر فواد عالم کو مسلسل نظر انداز کیے جانے پر حیرت کے سمندر میں غوطہ لگانے پر مجبور ہیں۔ جب فواد عالم کو کسی بھی طرح سے قومی ٹیم میں شامل ہی نہیں کیا جانا تو بار بار اُس کا فٹنس ٹیسٹ لیے جانے اور پھر تربیتی کیمپ میں بلانے کا مقصد؟

فواد عالم کو قومی ٹیم شامل ہونے کےلیے کیرئیر کے آغاز سے ہی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔  بہتر کارکردگی کے باوجود 2010 میں دورہ نیوزی لینڈ سے محمد الیاس صاحب کی درخواست پر ٹیم سے نکالا گیا۔ فواد عالم کی سلیکشن پر محسن خان اور محمد الیاس میں اختلاف سامنے آئے۔ فوادعالم کی سلیکشن پر محمد الیاس نے استعفیٰ پیش کیا۔ جس کےبعد  اعجاز بٹ صاحب نےاس معاملے میں محمد الیاس کے تحفظات سنے اور محمد الیاس کی بات مان لی گئی۔ فواد عالم کو ڈراپ کردیاگیا۔

فواد عالم کو 2014 میں ایشیا کپ میں مجبوراً موقع دیا گیا۔جس میں اُنکی پرفارمنس کافی متاثر کن تھی۔ اہم میچز میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ جس میں بنگلہ دیش کےخلاف 74 اور سری لنکا کےخلاف 114 رنز کی اننگز شامل ہیں۔ فواد عالم نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد 2014-15 میں 8 میچز کھیلے جس میں 69 کی اوسط سے رنز اسکور کرنےکے باوجود 2015 کے ورلڈ کپ اسکواڈ میں اُنکے نام پر غور نہیں کیاگیا۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین پرفارمنس کے باعث 2015 میں متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں انگلینڈ کےخلاف کھیلے جانے والی ٹیسٹ سیریز میں اسکواڈ کا حصہ تو بنایاگیا لیکن کوئی موقع نہیں دیاگیا۔پھرجب 2016 میں دورہ انگلینڈ سےقبل جب کھلاڑیوں کی فٹنس کولیکر ہر طرف سےتشویش کااظہار کیاجارہاتھا۔ ایسے میں یونس خان ، شان مسعود کے ساتھ فواد عالم کو دیگر نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں میں مکمل فٹ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن افسوس اُس کے باوجود دورہ انگلینڈ کے اسکواڈ میں شامل نہیں کیاگیا۔

دورہ انگلینڈ کے اہم ترین دورے پر جب 5 نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیسٹ  اسکواڈ میں پہلی مرتبہ شامل کیا جاسکتا ہے تو فواد عالم کےساتھ زیادتی کیوں کی جارہی ہے ؟ نوجوان کھلاڑیوں کی اسکواڈ میں شمولیت پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ لیکن کسی سینیئر کو مسلسل ڈومیسٹک سرکٹ میں کارکردگی دکھانے کے باوجود مسلسل نظر انداز کرنا ناانصافی ہے۔ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سابق کرکٹرز کی جانب سے فواد عالم کو  مصباح اور یونس کے بیٹنگ پوزیشن کےلیے بہترین آپشن قراردیا جاتارہاہے۔  لیکن جب بھی سلیکشن کی بات آتی ہے تو بدقسمتی کے سے محمد الیاس  جیسی زہنیت والے افراد کسی نہ کسی شکل میں سلیکشن کمیٹی میں موجود ہوتے ہیں۔ جو کسی بھی کھلاڑی کا اپنی ضد اور انا کے لیے کیریئر تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

فواد عالم نے  اپنا پہلا ٹیسٹ 2009 میں سری لنکا کےخلاف کھیلا تھا۔ بدقسمتی سے اب تک صرف تین ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔ جس میں تین ٹیسٹ میچز کی 6 اننگز میں 42 کی اوسط سے 250 رنز اسکور کیے۔ اننگ کا بہترین اسکور 168 ہے۔ فواد عالم نے فرسٹ کلاس میں 55 کی اوسط سے 145 میچز میں 10742 رنز اسکور کیے۔ جس میں 27 سینچریز اور 57 نصف سینچریز شامل ہیں۔بہترین اسکور 296 ہے۔  فواد عالم کے ساتھ  چیف سلیکٹر اور سلیکشن کمیٹی کی جانب سے روا رکھےجانےوالا رویہ افسوسناک  ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کو اپنی میراث سمجھنے کے بجائے زمہ داران کو اپنی ذمہ داری کامظاہرہ کرنا چاہیے۔اگر واقعی مستقبل میں قومی ٹیم کو دنیا کی بہترین اور بڑی ٹیموں کی صف میں کھڑا کرناہے تو اُس کے لیے انتظامیہ کو انصاف سے کام لینا ہوگا۔  کسی رشتہ داری /دوستی نبھانے کے بجائے میرٹ کو ترجیح دینا ہوگی۔

test squad

Tabool ads will show in this div