مسلم لیگ ن کا سیاسی مستقبل

بلاگر: افضال فاروقی

میاں محمد نوازشریف کا سیاسی سفر بظاہر اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ نواز شریف کا شمار ملک کے ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے عروج اور زوال دونوں دیکھے۔ ستر کی دہائی میں نواز شریف نے کرکٹ میں قسمت آزمائی مگر ایک فرسٹ کلاس میچ سے زیادہ ان کا کیریئر آگے نہ بڑھ سکا۔ نواز شریف کو شوبز میں بھی دلچسپی تھی تاہم بات زیادہ بن نہ پائی۔

گھر میں پیسے کی ریل پیل تھی۔ نواز شریف کے والد میاں شریف کامیاب بزنس مین شمار ہوتے تھے۔ ان کا ہاتھ بٹانے کےلیے نوازشریف کےعلاوہ شہباز شریف اور عباس شریف بھی اپنے والد کے ساتھ ہوتے۔ نوازشریف نے جونیجو دور سے سیاست میں انٹری دی۔ انہوں نے پنجاب حکومت میں وزیر خزانہ کےعہدے پر بھی کام کیا۔ جونیجو دور کے بعد جب بےنظیر کی حکومت آئی تو نواز شریف نے موثر انداز میں ملکی سیاست میں انٹری دی اور پنجاب سے نکل کے وفاق کی جانب آئے۔ سن نوے میں وہ پہلی بار ملک کے وزیراعظم بنے۔ نواز شریف کے لیے اگرچہ یہ نیا امتحان تھا مگر وہ ناکام ہوئے۔ اپریل 1993 میں نواز شریف کی حکومت برطرف ہوئی جس کوعدالتی حکم کے بعد بحال کر دیا گیا تاہم جولائی 1993 میں نوازشریف کی وزارت عظمی ختم ہوگئی۔ نوازشریف نے 1993 سے 1996 کا دور اپوزیشن میں گزارا۔ یہ ان کی سیاسی تربیت کا اہم دور تھا تاہم بےنظیر بھٹو کی حکومت کےلیے نواز شریف جارحانہ اپوزیشن لیڈر تھے۔

نواز شریف کو وزارت عظمی کا دوسرا موقع 1997 میں ملا۔ اس بار بھی ان کی وزارت صرف دو سال چل سکی۔ اس بار فوج کے ساتھ ٹکراؤ ان کےلئے خطرناک ثابت ہوا۔ نوازشریف نے پہلی بار جیل کی صورت دیکھی اور وہ تقریبا ایک سال جیل میں رہے۔ کہاجاتا ہے کہ جیل سے نکل کر سیاسی رہنما عظیم لیڈر بنتے ہیں مگر نواز شریف نے جلاوطنی میں عافیت جانی اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان چھوڑ دیا۔ سعودی عرب سے نواز شریف کے بیانات آتے رہتے تھے مگر ان کی پاکستان آمد پر پابندی تھی۔ وہ اپنے والد کی تدفین پر بھی پاکستان نہ آسکے۔

پھر 2007 میں مبینہ این آر او کے بعد نواز شریف کی پاکستان میں دوبارہ انٹری ہوئی۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ نواز شریف نے اپنی سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا۔ انہوں نے اپنی سیاسی حریف بےنظیربھٹوسے بھی صلح کرلی اور دونوں کے درمیان گاہے بگاہے گفتگو بھی چلتی رہتی۔ پاکستان میں بےنظیر بھٹو کی اکتوبر2007 میں آمد کے بعد قوی امید تھی کہ دونوں رہنماء مل کر ملک کو آگے لے جائیں گے مگر 27 دستمبر کو بےنظیر کو شہید کر دیا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں رہنماؤں میں بہت ہم آہنگی ہوچکی تھی اور پاکستانی سیاست ایک نیا رخ اختیار کرنے والی تھی کہ جب یہ سانحہ ہوا۔ آصف زرداری نے جب پیپلزپارٹی کے باگ دوڑ سنبھالی تو ابتداء میں دونوں جماعتوں میں خوب تعاون رہا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ کدورتیں پیدا ہوئیں اور مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تاہم مسلم لیگ ن فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ہی ادا کرتی رہی۔

الیکشن 2013 مسلم لیگ ن کی کامیابی کی نوید لایا۔ نواز شریف کو عوام نے تیسری بار وزارت عظمی کےلیے منتخب کیا۔ یہ کسی بھی سیاسی رہنما کےلیے خوش قسمت ترین موقع ہوتا ہے۔ نوازشریف منجھے ہوئے سیاست دان بن چکے تھے تاہم ان کے مخالفین اس بار کمر ٹھونک کے میدان میں تھے۔ آصف زرداری کےساتھ ان کے تعلقات میں دراڑ آئی اور عمران خان بھی نواز شریف کو ٹف ٹائم دینے لگے۔ نواز شریف نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس بارعدلیہ ان کو گرا دے گی۔ پاناما پیپرز کی دھوم شروع ہونے کے بعد جہاں نواز شریف پر دباؤ بڑھا وہیں عدلیہ نے بھی اس بار کچھ کر دکھانے کی ٹھانی۔ نوازشریف پر دباؤ تھا کہ وہ الیکشن 2013 کے چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کروائیں۔ تاہم نواز شریف نے ایسا نہ کیا۔ مخالفین کو یہ بات دل پر ایسی لگی کہ پاناما کیس کو سپریم کورٹ تک لے گئے۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کے خلاف فیصلہ دیا اور وہ اسمبلی رکنیت سمیت وزارت عظمی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سپریم کورٹ نے پارٹی صدارت سے بھی نوازشریف کی چھٹی کروا دی۔ بات یہاں سے آگے بڑھی اور نواز شریف کو عمر بھر کے لیے سیاست کرنے سے نااہل قرار دے دیا گیا۔

نواز شریف کےلیے یہ انتہائی مشکل دور ہے اور اب واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ نوازشریف کے مداح کہتے ہیں کہ وہ گر کر اٹھنے کا فن جانتے ہیں مگر اس بار بات بنتی دکھائی نہیں دے رہی۔ نواز شریف کا آئندہ الیکشن میں کوئی چانس نہیں ہوگا۔ ان کے بجائے شہباز شریف کی پوزیشن قدرے بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ شہباز شریف کو ایڈمنسٹریشن امور میں انتہائی ماہر سمجھا جاتا ہے۔ وہ عوامی خدمت کو اپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی صفوں میں شہبازشریف کی عزت و تکریم کی جاتی ہے۔ وہ پارٹی کو آگے لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

شریف خاندان میں مریم نواز اور حمزہ شہباز کو بھی ملکی سیاست کی جانب آنا ہوگا۔ اگر شہبازشریف نے ملکی سیاست میں کردار ادا کیا تو پنجاب میں حمزہ شہباز اور مریم نواز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوگی۔ مخالفین اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے اور پورا زور لگائیں گے تاکہ دس برسوں سے مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھے جانے والے صوبے میں انکا ووٹ بینک توڑیں مگر شریف خاندان کی نوجوان نسل اپنی صلاحیت اور یکجہتی کے ساتھ ہی حریفوں کے حربے نا کام بنا سکتی ہے۔

پاکستان کےلئے آئندہ انتخابات مسلم لیگ ن کی سیاسی بقا کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ شکست کی صورت میں مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھرنے کی خدشات ہیں۔ اگر نواز شریف کو حالیہ مقدمات میں قید کی سزا ہوجاتی ہے تو یہ مسلم لیگ ن کےلیے دو دھاری تلوار کی مانند ہوگا۔ اپنے قائد کے بغیر انتخابی مہم چلانا اور اس سزا کا مقابلہ کرنا بلاشبہ کٹھن ترین لمحہ ہوگا۔

چالیس سال قبل عدالتی فیصلے نے ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا تھا اور اب اعلی عدلیہ کا فیصلہ کیا نوازشریف کی مقبولیت کو دگنا کردے گا، اس کا فیصلہ آنے والے چند ہفتے کر دیں گے۔

PTI

Politics

maryam

Tabool ads will show in this div