کالمز / بلاگ

تاحیات قائد، تاحیات نااہل مگر مریم نواز نہیں

سپریم کورٹ کا نااہلی کی مدت سےمتعلق متوقع فیصلےکےمطابق سابق وزیراعظم نواز شریف تاحیات نااہل قرار پائے۔ جس کے بعد وہ پارلیمانی سیاست میں تب تک حصّہ نہیں لے سکتے۔ جب تک یا تو پارلیمنٹ میں بزریعہ دو تہائی اکثریت آئینی ترمیم لائی جائے۔ یا پھر سپریم کورٹ کسی اور کیس میں تاحیات نااہلی کی مدت متعین کردے۔

لیکن سابق وزیراعظم کی تاحیات نااہلی کے بعد ہوگا کیا؟۔نااہل وزیراعظم کو مشرف طیارہ سازش کیس میں بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔ لیکن ہوا کیا؟۔جب سابق وزیراعظم دو بار پاکستان واپسی میں ناکامی پر تیسری بار پاکستان آنے میں کامیاب ہوئے تو 2013 کے انتخابات میں عوام نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت دی۔

اب بھی کیا ہوگا؟۔اگلے انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر نواز شریف اس میں حصّہ نہیں لے سکیں گے اور حالات، واقعات اور عدالتی فیصلوں سے لگتا نہیں کہ نواز لیگ کسی بھی صورت وفاق میں حکومت بنا سکے گی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کی بیٹی کے خلاف نیب میں زیر سماعت ریفرنسز کے فیصلے بھی بہت جلد متوقع ہیں جوکہ لگتا نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے مختلف ہونگے۔

لیکن نیب کی طرف سے سابق وزیراعظم کو سزا دینے کے بعد بھی کیا ہوگا؟۔تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف یا تو اڈیالہ جیل پہنچ جائیں گے یا پھر کسی ڈیل کے نتیجے میں اپنی اہلیہ کلثوم نواز کے پاس لندن۔اس کے بعد کیا ہوگا؟۔اگر تو سپریم کورٹ کے بعد نیب سزا کا حقدار صرف سابق وزیراعظم کو ٹھراتی ہے۔ تو یقینی طور پر مریم نواز اگلے انتخابات میں اپنے مظلوم باپ کی مظلومیت اور اپنی بیمار ماں کی بیماری کا رونا روئیں گی۔ جس کی وجہ سے یقینی طور پر مریم نواز لاہور کے کسی حلقے یا کسی بھی پنجاب کے حلقے سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں گی۔ چاہے اگلی حکومت نواز لیگ کی آئے یا نا آئے۔

اگلی حکومت پانچ سالوں تک حکومت کریگی اور نواز لیگ اگر تو پنجاب میں حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پنجاب کی حکومت کے ساتھ ساتھ نواز لیگ وفاق میں اپوزیشن کا کردار نبھائے گی اور 2023 کے انتخابات کا انتظار کریگی۔یہ حقیقت ہے کہ سابق وزیراعظم سپریم کورٹ کےحالیہ فیصلے کے بعد تاحیات نااہل ہوگئے ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو 80 کی دہائی میں سیاست شروع کرنے والے نااہل وزیراعظم نے اور کتنی سیاست کرنی ہے۔ 3 بار وزیراعظم رہنے والے اب اور کتنی بار وزیراعظم بنیں گے؟۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے متاثر ہونے والے سابق وزیراعظم وقتی طور پر تو اس فیصلے سے یقینی طور پر پریشان ہونگے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو نااہلی کے ان فیصلوں سے یقینی طور پر نواز لیگ کو اور خاص کر مریم نواز کو فائدہ ہوگا۔نواز شریف کی نااہلی کے فیصلوں کے بعد مریم نواز بذریعہ شارٹ کٹ لیڈربنتی دکھائی دے رہی ہیں اوربےشک نوازشریف نااہلی کےفیصلوں کے بعد پارلیمانی سیاست نا کرسکیں۔ لیکن وہ ملکی سیاست میں سرگرم رہتے ہوئے نواز لیگ اور اپنی بیٹی مریم نواز کے لئے انتخابی مہم چلا سکتے ہیں۔ جس کا فائدہ یقینی طور پر نواز لیگ کو ہوگا۔

سابق وزیراعظم کی نااہلی اور پھر نواز لیگ کی صدارت سے بھی نااہلی کے بعد نواز لیگ کی طرف سے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو صدر مسلم لیگ نواز تو منتخب کرلیا گیا۔ لیکن ان کی عمر اور صحت اس قابل نہیں کہ 2023 کے انتخابات میں وہ نواز لیگ کی قیادت کرسکیں گے۔ ایسی صورتحال میں مریم نواز ہی بچتی ہیں جو کہ ابھی تو نہیں لیکن اگلے انتخابات میں یقینی طور پر نواز لیگ کی قیادت کریں گی۔ بشرطیکہ نیب میں زیر سماعت ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ انھیں بھی جیل نا بھیج دیا گیا۔

MARYAM NAWAZ

Tabool ads will show in this div