تازہ ترین

مشال خان کے قتل کو ایک سال مکمل

پشاور:خان عبدالولي خان يونيورسٹي مردان ميں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے قتل کو آج ايک سال مکمل ہوگیا۔کيس ميں ايک ملزم کو سزائے موت جبکہ چارکوعمرقيد کي سزاسنائي جاچکي ہے جبکہ 57 ملزمان کوعدالت نے رہا کرديا ہے۔

تیرہ اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا کے شہرمردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کا الزام لگاتے ہوئے طالب علم مشال خان کو تشدد کرکے ہلاک کرديا۔

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ چار جون 2017 کو سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ یہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیاجس میں یونیورسٹی ملازمین بھی ملوث ہیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مشال خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے نازیبا یا توہین آمیز کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

مزید پڑھیے: مشال قتل کیس میں جے آئی ٹی کے سنسنی خیز انکشافات

تیس جنوري کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردي کي عدالت نے 57 ملزمان کے مقدمات پر فيصلہ محفوظ کرليا جو 7 فروري 2018 کو سنايا گيا ۔ فیصلے کے تحت ايک ملزم کو سزائے موت ،چارکوعمرقيداور 25 کو چارچار سال قید کی سزا جبکہ 25 ملزمان کو رہا کرديا گیا تھا۔

فيصلے کے چند روزبعد چار، چارسال سزا پانے والے ملزمان کي جانب سے پشاور ہائي کورٹ کي ايبٹ آباد بنچ ميں اپيل دائر کي گئي جس پر عدالت نے سزا پانے والے 25 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم ديديا۔چارملزمان کا مقدمہ  انسداد دہشت گردي عدالت ہري پورجيل ميں جاري ہے۔

مزید پڑھیے:مشال قتل کیس، ایک مجرم کو سزائے موت ، 30 کو قید

دو روز قبل 11 اپریل کو مشال قتل کیس میں نامزد آخری ملزم عبدالولی خان یونیورسٹی کے ملازم اسد کاٹلنگ نےعدالت سے 16 اپریل تک ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کر لی۔ ملزم نامزد61 ملزمان میں واحد ہےجس کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظورہوئی۔

گزشتہ ایک سال سےروپوش اسد کاٹلنگ نے اچانک انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوکرضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے درخواست پیش کردی۔

گیارہ اپریل کو ہی پشاورہائيکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے دائردرخواست پرمشال قتل کیس میں دائر اپیلیں پشاورمنتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔

ATC

Peshawar High Court

Abdul Wali Khan university

Mashal Khan

first death anniversary

Tabool ads will show in this div