کالمز / بلاگ

باہمت خواتین، اُمیدِ سحر

بلاگر: راضیہ سید

وجودِ زن سے تصویر کائنات میں رنگ تو ہے مگر یہ ایسا رنگ نہیں کہ جو صرف قوسِ قزح کی طرح آنکھوں کو خیرہ کرنے کا سبب بنے۔ بلکہ وجودِ زن سے کائنات کی تصویر میں ایسا رنگ بھرا ہے کہ عورت نے معاشرے کی ہر اکائی میں اپنا کردار روزِ ازل سے ادا کیا ہے۔

خواتین معاشرے کے نصف سے بھی زیادہ ہیں اور ان کا کردار کسی بھی معاشرے کی تعمیر و تخریب میں نمایاں طور پہ نظر آتا ہے ، "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں مضبوط قوم دوں گا"، نپولین بونا پارٹ کا یہ کہنا یقینا عورت کے لیے باعث فخر ہے کیوں کہ عورت قوموں کی تشکیل کا ابتدائی نقطہ آغاز ہے۔

زندگی کے ہر رخ کو پاکستان میں دیکھیے، آپ کو ہر جگہ عورت کامیابیاں سمیٹتی نظر آئے گی، سینٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمٰن ہوں ہا پھر دلت ذات سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری جو تھر کے ضلع نگر ہار کے ایک ہاری کی بیٹی ہیں، مگر آج پاکستان کے ایوانِ بالا کی رکن منتخب ہو چکی ہیں۔

کرشنا کماری جب اپنے کسان والد اور ان پڑھ والدہ کے ساتھ ایوانِ بالا میں منتخب ہونے کی خوشی منا رہی تھیں تو ایک عام پاکستانی ان کی کامیابی پہ اس لیے خوش تھا کہ پاکستان نام نہاد جمہوریتوں یا نام نہاد اداروں کے خواتین کے حقوق کا دعویٰ کرنے کے بجائے خواتین کو حقیقی حقوق دے رہا تھا۔  خواتین عزم و ہمت کی ایسی مثالیں رقم کر رہی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پاکستان کی عورت کی ہمت و عظمت تو پوری دنیا کے لیے مثال ہے کہ ایٹمی قوت کی سربراہ بینظیر شہید جیسی عورت رہیں جو دو دفعہ اقتدار میں آئیں۔

انتخابات 2018 میں کرم ایجنسی سے امیدوار قومی اسمبلی محترمہ علی بیگم پاکستان کا روشن چہرہ ہیں۔انہوں نے قومی اسمبلی کی عام نسشت کے لئے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے ، ایک ایسا علاقہ پارہ چنار جہاں کے حالات زیادہ تر کشیدہ رہتے ہیں وہاں ایک خاتون کا الیکشن کے میدان میں آنا بذات خود ایک دلیرانہ قدم ہے ۔ اور ان لوگوں کے فرضی نعروں کا عملی جواب بھی ہے جو پاکستان میں خواتین کے استحصال کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔

علی بیگم فاٹا سے تعلق رکھنے والی وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے سول سروسز کا امتحان ۱۹۷۷ میں پاس کیا اورمحمکہ تعلیم ، پلاننگ اینڈ ڈیلوپمنٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ میں اعلی عہدوں پر خدمات سرانجام دیں ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پہلے  کرم ایجنسی کے لئے قومی اسمبلی کے لئے دو نشستیں تھیں مگر اب نئی حلقہ بندیوں کے بعد وہاں ایک ہی نشست پر مقابلہ ہو گا اور یہاں مرد حضرات کی بھی اکثریت ہے لہذا علی بیگم کو سخت ترین مقابلے کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔

علی بیگم قومی اسمبلی کے حلقہ ۴۶ سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور ان کا یہ عزم ہے کہ وہ کامیابی کے بعد اپنے علاقے کے عوام اور بالخصوص خواتین کی صحت اور تعلیم کی بہتری کے لئے کام کریں گی۔

کرم ایجنسی کی اس خاتون امیدوار علی بیگم کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہو گئی ہے کہ باجوڑ سے ایک خاتون بادام زئی نے ۲۰۱۳ کے عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھا تاہم وہ ناخواندہ ہونے کی وجہ سے اپنے علاقے کے لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کر سکیں اور صرف ایک سو چالیس ووٹ ہی لے پائیں اور اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار شہاب الدین چودہ ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

ان دونوں اور ان جیسی بہت سی خواتین کا سیاست کے میدان میں قدم رکھنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خواتین کو مردحضرات کے دئیے ہوئے اعتماد کی ضرورت ہے جو لبرل ازم کے نعروں سے بالاتر ہو کے دیا جائے۔

women empowerment

Krishna Kumari

Ali Baighum

Tabool ads will show in this div