کیا سرد جنگ کا تاریک دور واپس آرہا ہے؟

۔۔۔۔۔**  تحریر : کامران اسلم ہوت  **۔۔۔۔۔

حالیہ کچھ عرصہ میں عالمی سطح پر تیزی سے کچھ بڑے بڑے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جن میں عرب اسپرنگ سے عرب ممالک میں جاری آمرانہ حکومتوں کا خاتمہ، یمن جنگ میں حوثیوں کیخلاف سعودی اتحاد، داعش کا خاتمہ، روس کا کریما پر قبضہ، امریکا کی شام میں بشارالاسد کیخلاف باغیوں کی حمایت، شام میں انسانی خون ریزی، افغانستان کے 70 فیصد علاقے پر طالبان کا اثر و رسوخ، سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں کئی شہزادوں کی گرفتاری اور رقوم کی وصولی، ترکی کی شام کی جنگ میں شامل ہوکر کردوں کیخلاف کارروائی، روس کا سپر سانک میزائل (آواز کی رفتار سے 10 گناہ تیز) کا تجربہ، روس کا شام کی جنگ میں بشار الاسد کے ہاتھ مضبوط کرنا، ترکی میں ناکام بغاوت، امریکا کا اسٹیل کی درآمد میں ٹیکس کا اضافہ اور جواباً چین کی جانب سے 128 امریکی مصنوعات میں پر بھی ٹیکس لگانا، لندن میں ایک سابق روسی ایجنٹ کے قتل پر برطانیہ اور امریکا سمیت کئی ممالک سے روس کے سفارتکاروں کی ملک بدری اور روس کا ان تمام ممالک کیخلاف جوابی اقدام وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی میں بھی روس پر اس طرح کے الزامات لگتے رہے روس نے اپنے کئی سابق جاسوسوں کو قتل کیا لیکن آج تک کوئی یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ تمام قتل روس نے ہی کئے تھے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1962ء میں کیوبا میزائل بحران نے دنیا کو ایک ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچادیا تھا، جس طرح 20 کے قریب ممالک نے لندن اور واشنگٹن کی تقلید میں روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پھر سے ایک نئی سرد جنگ کے تاریک دور کی طرف گامزن ہے۔ اس جنگ میں ایک طرف سے بلاک بننا شروع ہو چکا ہے اور دوسری طرف سے بلاک بنانے کیلئے کھلاڑیوں کا انتظام کیا جارہا ہے۔ ماضی کی سرد جنگ کے دوران کئی ممالک کا وجود نہیں تھا اور اب ان ممالک کیلئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگا کہ کون سے بلاک میں شامل ہوں۔

ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی آنیوالی سرد جنگ بہت مختلف ہوگی، ماضی کی سرد جنگ میں سویت یونین کے اتحادی شاید اب مخالف بلاک میں شامل ہوں اور امریکا کے اتحاد میں شامل ممالک بھی اس کے اتحاد میں شامل نہ ہوں۔ جیسا کہ انقلاب سے پہلے تک ایران امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک تھا لیکن اگر اب ہم ایران کو دیکھتے ہیں تو وہ امریکا مخالف اتحاد کا ایک اہم رکن ہے۔ اسی طرح کچھ ممالک ایسے ہیں جن کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ کس بلاک میں شامل ہوں، اس کی مثال ہم ترکی سے لے سکتے ہیں کہ ترکی نیٹو اتحاد کا ایک اہم رکن ملک ہے، لیکن اس وقت ان کی قربتیں روس سے زیادہ ہوتی جا رہی ہیں۔

حال ہی میں ترکی نے روس کے تعاون سے اپنے پہلے ایٹمی بجلی گھر کا افتتاح کیا، اس کے علاوہ بھارت نے بھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کون سے بلاک کو اپنائے گا، ماضی میں بھارت سویت یونین کا اتحادی تھا لیکن حالات میں تبدیلی کی وجہ سے بھارت امریکا کے زیادہ قریب آگیا ہے اور امریکا بھارت کو خطے کا ٹھیکیدار بنانا چاہتا ہے، دوسری جانب بھارت، روس اور چین کے قائم کردہ ادارے برکس کا ممبر بھی ہے۔

سب سے مشکل صورتحال واحد اسلامی ایٹمی پاور ملک پاکستان کو درپیش ہے کہ اس نے کہاں جانا ہے، ماضی میں پاکستان امریکا کا اتحادی رہ چکا ہے اور اس نے افغان جنگ میں سویت یونین کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ پاکستان نے اب اپنے تعلقات روس سے بہتر کرنا شروع کردیے ہیں، ماضی کی تلخیاں اب بہت حد تک کم ہو چکی ہیں، لیکن پاکستان کا سب سے بہترین دوست چین ہے جو روس کا بھی اہم اتحادی ہے، دوسری جانب برادر اسلامی ملک سعودی عرب امریکی اتحاد کا اہم جُز ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری حکومت کیا فیصلہ کرتے ہیں؟۔

پچھلے ہفتے سابق روسی ایجنٹ کے قتل پر روس کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہو، اس میں روس اور برطانیہ کے درمیان کافی گرما گرم بحث ہوئی، روس نے برطانیہ کے تمام الزامات کی تردید کی ہے لیکن برطانیہ اب بھی اپنی بات پر قائم ہے کہ اُس ایجنٹ کو روس نے ہی قتل کروایا ہے۔  سلامتی کونسل میں ان دونو ں ممالک کے درمیان صلح ہو جاتی ہے تو نئی سرد جنگ کے بادل کچھ عرصے کیلئے چھٹ جائیں گے لیکن معاملہ خراب ہونے کی صورت میں دنیا کو تاریکی کی جانب سفر کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

RUSSIA

USA

World War

cold war

Tabool ads will show in this div