ترکمانستان میں چالیس سال سے دھکتا ہوا آگ کا کنواں

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
آشک آباد : دنیا ایک حیرت کدہ ہے اور اس حیرت کدے میں چاليس سال پہلے آگ کا ایک ایسا کنواں دریافت ہوا جسے دیکھ کر جہنم کا دروازہ ہونے کا خدشہ ظاہر کيا گيا۔

روسی انجینئرز 1971میں صحرائے قراقرم کے وسط میں گیس کی تلاش کےلیے کھدائی کر رہے تھے کہ  بھاری مشینوں کے ذریعے ڈریلنگ کے دوران ایک جگہ سے زمین خود بخود دھنستی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں ایک 200فٹ چوڑا گڑھا نمودار ہوا۔

اس گھڑھے میں میتھین گیس بھری ہوئی تھی۔ انجینئرز کاخیال تھا کہ گیس کی وجہ سےقریبی گاؤں دروازہ کے مکینوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس بنا پر انھوں نے آگ لگا کر گیس کو ضائع کرنے کی کوشش کی۔

انجینیرز کی یہ کوشش  آج تک کامیاب نہ ہوسکی اور اس آتشیں کنویں میں آج تک آگ کا الاؤ روشن ہے جس کی وجہ سے ترکمانستان کے وسط میں واقع صحرائے قراقرم سر شام بھڑکنے لگتا ہے۔

اس گیس کے اخراج کے نتیجے میں بھڑکنے والی آگ کو 40سال ہو چکے ہیں مگر گیس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سرخ و نارنجی روشنی کا یہ عجوبہ آج پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سماء / ایجنسیز

میں

کا

سے

آگ

entry