سیاسی پرندوں کی اڑان اوراگلے الیکشن

Apr 07, 2018

انتخابات کی آمد آمد ہے اور سیاسی پرندوں کی دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ شروع ہوا جاتا ہے۔مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنی مدّت اقتدار مکمل کرنے کو ہے اور حکومتی مدت 31 مئی کو مکمل ہونے کے بعد 60 دنوں کے اندر اندر عام انتخابات کا انعقاد آئینی ذمہ داری ہے۔ایسی صورتحال میں اڑان بھرنے والے ان سیاسی پرندوں کی نواز لیگ چھوڑ کر کسی بھی دوسری جماعت میں شمولیت کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟۔

کیا یہ وجہ کافی ہے کہ چونکہ نوازلیگ کا دور مکمل ہونے کو ہے۔ لہذاٰخود غرض سیاسی پرندے اپنے اپنے حصّے کا دانہ چگنے کے بعد اڑان بھرنے لگے ہیں۔ یا نوازلیگ چھوڑ کر جانے والے کواندازہ ہوچکا ہے کہ اگلی حکومت نواز لیگ کی نہیں ہوگی۔ یا پھر سیاسی پرندوں کی اڑان کی وجہ مئی کے دوسرے ہفتے میں نیب میں دائرریفرنسز کے ممکنہ سابق وزیراعظم نواز شریف مخالف فیصلے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ نواز لیگ کے رہنما نواز لیگ چھوڑ کر کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف میں ہی کیوں شامل ہورہے ہیں؟۔

تحریک انصاف میں ان سیاسی پرندوں کی شمولیت کیا ان مطلب اور مفاد پرست سیاستدانوں کو ہونے والا الہام ہے۔ جس میں انھیں مطلع کیا گیا ہے کہ چونکہ اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہوگی۔ اس لیے عمران خان کے ہاتھ پر سیاسی بیعت کرنا ہی ان کے لئے بہتر ہوگا۔ماضی میں ہونے والی سیاسی پرندوں کی اڑانوں کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کے سیاسی پرندے اگر اڑان بھرتے ہیں تو ان کا آخری بسیرا بنی گالا ہی ہوتا ہے۔ جہاں سیاسی ہجرت کرنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے عمران خان ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔

نوٹ کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہجرت کرنے والے ان سیاسی پرندوں کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے۔ جو کہ ناصرف پانچ سالوں تک نواز لیگ کے وفادار رہے۔ بلکہ 2013 کے انتخابات میں ان بے وفا سیاسی پرندوں کو فتح نواز لیگ کی ٹکٹ کی وجہ سے ملی۔ ناکہ ماضی میں ان کی کارکردگی یا عوام میں پزیرائی کی وجہ سے۔ اس کے علاوہ یہ سیاسی پرندے اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ پنجاب میں نواز لیگ کے بعد دوسری بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف ہی ہے۔ ناکہ پیپز پارٹی۔ایک بات تو طے ہے کہ یہ سیاسی پرندے اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ اگلی حکومت نواز لیگ کی نہیں ہوسکتی اور اس کی وجہ یہ کہ اگر ایسا کوئی چانس ہوتا تو سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کرکے نکالا کیوں جاتا اور کیوں وہ آج تک پوچھتے پھرتے ہیں۔ "مجھے کیوں نکالا"۔

پاکستانی سیاست اور بدلتے ان دیکھے سیاسی حالات کسی بھی وقت ایسا پلٹا کھا سکتے ہیں کہ سیاسی ہجرت کرنے والے یہ مفاد پرست خود غرض پرنوں کو پشتانا پڑسکتاہے اوراس کی وجہ یہ کہ اس ملک کے فیصلے کرنے والے سابق وزیراعظم سے ان کی من مانیوں کی وجہ سے تو ناخوش تھے۔ لیکن ان کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب اور صدرپاکستان مسلم لیگ نواز شہبازشریف کے ان فیصلہ سازوں کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے ہی اچھے ہیں۔

سابق وزیراعظم کو نااہل کرنے، نیب ریفرنسز کے فیصلوں میں تاخیر اور نااہل وزیراعظم کے بیانیے کے بعد ان فیصلہ سازوں کے لیے آسان نہیں کہ وہ پنجاب کی سب سے بڑی جماعت کو مکمل طور پر رد کردیں اور پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں اکثریت دلوا کر وفاق سمیت پنجاب میں بھی حکومت دلوا دیں۔ کیونکہ پنجاب میں اکثریت حاصل کیے بغیر تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے لئے بھی وفاق میں حکومت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ہاں اگر دونوں سیاسی جماعتیں سینیٹ انتخابات کی طرح عام انتخابات کے بعد بھی الائنس کر لیتی ہیں تو ان کے الائنس کی مخلوط حکومت بن سکتی ہے۔

PTI

PML N

Election 2018

Tabool ads will show in this div