کوئٹہ،ہزارہ افراد کاٹارگٹ کلنگ کیخلاف دھرنا ساتویں روز میں داخل

کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کا احتجاجی دھرنا ساتویں روز بھی جاری ہے۔ دھرنا ایک ہفتے قبل ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف شروع کیا گیا۔

واقعے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک اورشخص زخمی بھی ہوا۔ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ شہر کے مصروف ترین علاقے قندہاری بازار میں دن دیہاڑے پیش آیا۔ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے افراد پر حال ہی میں ہونے والے حملوں کے خلاف قبیلے کے افراد نے علمدار روڈ پر دھرنا دیا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شریک ہیں۔

 

دھرنا ہر شام پانچ بجے شروع کیا جاتا ہے، جس میں ہر طبقے اور عمر کے افراد شریک ہوتے ہیں۔ دھرنے میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی حکومتی عہدے دار نے اس سے رابطہ نہیں کیا۔ اس موقع پر شریک کچھ افراد کا کہنا تھا کہ حکومت قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دھرنے میں شریک حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی کارکن جلیلہ حیدر نے سماء ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے کا انتظام ٹیکسی ڈرائیوروں نے کیا ہے، ہزارہ قبیلہ گزشتہ دو دہائیوں سے ظلم وجبر کا شکار ہے، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ان کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ جلیلہ حیدر نے کہا کہ سات روز سے جاری اس دھرنے کی میڈیا کوئی کوریج نہیں کی۔

دھرنے میں شریک لوگوں کا مطالبہ:

دھرنے میں شریک افراد کا کہنا ہے وہ آرمی چیف کے علاوہ کسی کی یقین دہانی نہیں مانیں گے، ہماری آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے اپیل ہے کہ جیسے انہوں نے پارہ چنار جیسے علاقے میں امن قائم کیا، وہ یہاں بھی امن قائم کریں۔

ہزارہ برداری :

ہزارہ قبیلے کے لوگ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کوئٹہ شہر کے مشرق میں مری آباد جبکہ مغرب میں بروری روڈ سے متصل ہزارہ ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں۔

دیگر مقامات کے علاوہ ان کو دونوں علاقوں کے درمیان آمدورفت کے دوران بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ حکومتی سطح پر قائم حقوق انسانی کی تنظیم نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے ہزارہ قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 16سال کے دوران ہزارہ قبیلے کے افراد پر ہونے والے حملوں میں 525 افراد ہلاک اور700 سے زائد زخمی ہوئے۔ تاہم ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی دیگر تنظیموں کا یہ کہنا ہے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

اگرچہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث پہلے کے مقابلے میں ان حملوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

ARMY CHIEF

HAZARA

DEMONSTRATION

SIT IN

Tabool ads will show in this div