خونی پہاڑی ماؤنٹ ایورسٹ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث تشویش کا سبب

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی : ماؤنٹ ایورسٹ کو خونی پہاڑ بھی کہا جاتا ہے جسے اب تک 4 ہزار مہم جو فتح کر چکے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت  کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے کا عمل سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر رہاہے ۔ ایورسٹ  پر صدیوں سے جمی برف پگھلنے سے کوہ پیماؤں کی منجمد لاشوں کی باقیات کو نکالنے کا عمل آسان ہوگیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کی فتح کو بھی آسان کر دیا ہے۔ چوٹی پر پہنچنے کے دوران سیٹلائٹ کے ذریعے رابطہ ممکن ہونے کے بعد کوہ پیماؤں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بھی پتا چل جاتا ہے۔

ایورسٹ کا سرد اور مشکل ترین راستہ ہمیشہ  سے دنیا کا خطرناک ترین ڈیتھ زون  ہے جہاں  200 سے زائد کوہ پیما  برف کا سفید کفن اوڑھ کر ایک ایسا شہر خموشاں  آباد کرچکے ہیں جس کی بلندیوں کو چھو کر واپس لوٹنا ان کی جیت تھی۔

کوہ پیمائی کے اس کھیل میں  زندگی اس دورافتادہ سرد مقام پر جب برفیلی  ہواؤں کا مقابلہ نہیں کر پاتی تو موت سے ہار جاتی ہے۔ جب بھی کوئی نیا کوہ پیما اس مہم کو سر کرتا ہے تو ایورسٹ کے بلند مقام سمٹ پر پہنچ کر چند لمحے تاسف کے ضرور گزارتا ہے۔

چین اور نیپال کی سرحد پر واقع دنیا کی سب سے بلند چوٹی 1996میں 15 کوہ پیماؤں کا مدفن بن گئی تھی۔ 2006میں 11زندگیاں برفانی موت کی آغوش میں چلی گئیں۔ ایک اندازے کےمطابق اس وقت وہاں200سے زائد منجمد لاشیں قابل رحم حالت میں پڑی ہیں جنھیں نیپالی کوہ پیما بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

شدید موسم آکسیجن کی قلت کے باعث جہاں ایک ایک سانس مستعار لینا پڑتی ہے وہاں نیپالی کوہ پیماؤں کی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔سماء/ایجنسیز


 


ویڈیو دیکھنے کیلئے نیچے دیئے گئے ویڈیو کے لنک پر کلک کریں

کے

کا

homes

parliament

handed

تشویش

traditional