طالبان شوریٰ اور سیاسی کمیٹی کا حکومت سے امن مذاکراتی جاری رکھنے کا عندیہ

ویب ڈیسک


پشاور : طالبان شوریٰ سے طالبان کی 2 رکنی مذاکراتی ٹیم کا مشترکہ اجلاس ختم ہوگیا، ذرائع کے مطابق طالبان نے حکومت سے مذاکرات جارکھنے کا عندیہ دے دیا، حکومت سیز فائر کا اعلان کرے، طالبان جنگ بندی کیلئے تیار ہیں، حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا۔


ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے نامعلوم مقام پر طالبان شوریٰ سے طالبان کی 2 رکنی مذاکراتی ٹیم کا مشترکہ اجلاس ختم ہوگیا، اس سے قبل مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم، یوسف شاہ نے قاری شکیل اور خالد حقانی سے ملاقات کی جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی بھی کمیٹی سے ملاقات کی متضاد اطلاعات ہیں۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان شوریٰ اور کمیٹی کی ملاقات مثبت رہی، جس میں حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا، طالبان نے حکومت سے سیز فائر کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے جنگ بندی کیلئے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔


ذرائع کہتے ہیں کہ طالبان نے قبائلی علاقوں میں اثر و رسوخ دوبارہ بحال اور قیدی رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا، ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے ماحول کو سازگار بنانے کیلئے کارروائیاں بند کرے۔


ذرائع نے مزید بتایا کہ مشاورتی اجلاس میں طالبان کی جانب سے شریعت کے نفاذ پر لچک دکھانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔


دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم طالبان نے حکومت تک پہنچانے کے لیے اپنی کمیٹی کو 3 شرا ئط بتائی ہیں جن میں قیدیوں کی رہائی، متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی اورشورش زدہ علاقوں سے فوج کی واپسی شامل ہے۔


کالعدم طالبان کا مؤقف ہے کہ مذاکراتی عمل شريعت کے مطابق جاری رہنا چاہيے اور ہمارے لئے  آئين سے زيادہ شريعت مقدم ہے۔ ذرائع کے مطابق سياسی شوریٰ نے اپنے نکات سے بھی مذاکراتی کميٹی کو آگاہ کرديا۔ سماء

اور

کا

سے

Video

جاری

jundullah

trains

Benazir

mirza

Tabool ads will show in this div