معاشرے میں بڑھتا عدم اعتماد

تحریر: ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور

نہ صرف ہمارے معاشرے میں بلکہ پوری دنیا میں بڑھتا عدم اعتماد ایک بیماری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس کو دیکھو وہ دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ،سیاست میں بھی عدم برداشت دیکھا جا سکتا ہے آج کل جو سیاست پاکستان میں ہو رہی ہے وہ اسی عدم اعتماد کا نتیجہ ہی ہے اس کے علاوہ مختلف ممالک ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہے ،مختلف نسلوں کے لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے،مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں ،مختلف خیالات کے مالک لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اگر ہم اپنے معاشرے میں امن و سکون کے حامی ہیں تو ہم سب کو اپنی اپنی جگہ اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے ہمیں میانہ روی ،انصاف اور تحمل مزاجی سے کام لینا ہو گا اس کے بغیر امن ناممکن ہے کسی بھی معاشرے کی مثال لیں تو پتا چلتا ہے کہ وہاں رہنے والے افراد چاہے وہ ایک ہی مذہب کے پیروکار ہوں یا ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہوں ان میں بھی اختلافات موجود ہوتے ہیں کیونکہ ہر فرد کی سوچ دوسرے فرد سے یکسر مختلف ہے ہم صرف رواداری اور تحمل مزاجی سے ہی معاشرے میں بہتری اور امن لا سکتے ہیں یقناً ہمیں اس سے بھی انکار نہیں ہونا چاہیئے کہ معاشرے میں بڑھتا عدم اعتماد کی ایک وجہ لوگوں کو بروقت انصاف نہ ملنا بھی ہے ہمیں انصاف کے فروغ کے لئے اپنی اپنی جگہ بھر پور کوشش کرنی ہو گی جس معاشرے میں انصاف ،رواداری اور تحمل مزاجی کا فقدان ہو گا وہاں شدت پسندی،تشدد،لاقانونیت اورعدم اعتماد جیسی معاشی برائیاں موجود ہوتی ہیں۔

پاکستان میں پچھلے کچھ سالوں سے عدم اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اگر آپ سڑک پر اپنی موٹر سائیکل یاکار میں سفر کرتے ہیں تو اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ معمولی معمولی بات پر جھگڑے ہونے لگتے ہیں اگر وہاں پر ہی دونوں میں کوئی ایک معافی مانگ لے تو معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے لیکن معاملہ کو طول دیا جاتا ہے اور آخر کار بات لڑائی جھگڑوں تک پہنچ کر عدالت تک چلی جاتی ہے ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیئے اس کے علاوہ آپ نے اکثر اخبارات اور ٹی وی پر بھی ایسی خبریں پڑھیں یا سنی ہوں گی کہ گھر میں ملازمت کرنے والی بچی کے ساتھ ظلم کیا گیا اسے مارا پیٹا جاتا ہے اس پر تشدد کیا جاتا ہے یہ بھی معاشرے میں عدم اعتماد ہی کی ایک مثال ہے اس کے علاوہ عدم اعتماد کی ایک وجہ معاشرتی مسائل بھی ہیں کوئی مہنگائی کا رونا روتا ہے تو کوئی بے روزگاری کا،کسی کو انصاف نہ ملنے کا شکوہ ہے تو کسی کو مال لٹنے کا ڈر اور خوف ہے یہ تمام مسائل ایک عام فرد کو بیمار کر رہے ہیں کیونکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر طرح طرح کی نفسیاتی اور ذہنی امراض میں مبتلا ہو رہا ہے اگر دیکھا جائے تو ملک میں موجود سیاسی کارکن اور ان کے لیڈران بھی عدم اعتماد کا شکار ہیں ابھی حال ہی میں ہونے والے دو واقعات اس طرف اشارہ کرتے ہیں میرا مطلب واضح ہے ایک خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنا اور دوسرا میاں نواز شریف کی طرف جوتا پھینکنا یقیناً ہم ایسے لوگوں کو میڈل نہیں دے سکتے یہ سیاہی اور جوتے پھیکنے والے افراد بھی کسی نہ کسی ذہنی مرض یا نفسیاتی مرض کا شکار ہیں اس کی وجہ بھی عدم اعتماد ہی ہے ہمیں اپنے ملک اور گھر میں بھی امن وامان اور سکون کے لئے روا داری اور تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اکثرآپ نے دیکھا ہو گا کہ جن گھروں میں ماں باپ لڑائی جھگڑے کرتے ہیں ان کے بچے سہمے سہمے رہتے ہیں ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے آگے چل کر یہی بچے معاشرے کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں اس لئے ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہو گا کیونکہ ہمارا مذہب بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے۔

SAMAA Blog

Social Issue

Tabool ads will show in this div