بچوں کے سوالات کا تسلی بخش جوابات دیں اور صلاحتیں بڑھائیں

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
لندن : گھر بچے کی ابتدائی نرسری ہوتا ہے جہاں والدین اس کے استاد بھی ہوتے ہیں اور دوست بھی۔ طبی ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ ٹال مٹول کے بجائے بچوں کو تسلی بخش جواب دیں تاکہ ان کی صلاحتیں پروان چڑھ سکیں۔

والدین بچوں کے ابتدائی استاد ہوتے ہیں جن کا ہر عمل بچوں کا رد عمل بن جاتا ہے خاص طور پر جب  بچے بولنا  شروع کرتے ہیں۔ تو ان کو آوازوں کا شعور والدین کی زبان اور لہجے سے منتقل ہوتا ہے  اکثر والدین  بچے کو بولنا سکھانے کےلیے توتلی زبان میں بات کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن ماہرین کے نزدیک والدین کی یہ کوشش بچوں کی سیکھنے کی  صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے اور جب انھیں والدین کے نامکمل اور مبہم لفظ سمجھ نہیں اتے تو یا وہ خاموش ہوجاتے ہیں یا پھر ان سے اسی زبان میں بات کرنے لگتے ہیں ۔۔۔
 
حقیقت یہ ہے کہ چند ماہ کے بچے رنگوں اور حرکت کرتی چیزوں کی طرح مختلف آوازوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ  والدین کی گفتگو کا انداز بچوں کے لیے خاص  اہمیت رکھتا ہے۔

مصروف  والدین بچوں سے کم گفتگو کرتے ہیں اور ان کے بہت سے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ والدین کا یہ رد عمل  بچوں کے مشاہدہ کا حصہ بن جاتا ہے اور بعد کی زندگی میں وہ اسی مشاہدے کو اپنے معمولات کاحصہ بنا کر اکثر جان چھڑانا چاہتے ہیں جو ان کی شخصیت کا ایک کمزور پہلو بن جاتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سوالوں کا تسلی بخش جواب تلاش کریں اور بچوں کے ذہنوں میں کوئی سوالیہ نشان نہ بننے دیں۔ سماء/ایجنسیز

اور

کے

کا

celebrities

question

بچوں

Tabool ads will show in this div