کوئٹہ،ٹیکسی پر فائرنگ،ایک شخص جاں بحق

رپورٹر : محمد عاطف

کوئٹہ : نامعلوم افراد نے کوئٹہ کے قندھاری بازار سے گزرتی ٹیکسی پر فائرنگ کردی۔ حملے میں ایک شخص جاں بحق، جب کہ ایک زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق حملہ ہزارہ برداری کے افراد پر کیا گیا۔

اتوار کے روز کوئٹہ کے مصروف علاقے قندھاری بازار سے گزرتی ایک پیلی ٹیکسی پر نامعلوم ملزم نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو موت کے گھاٹ، جب کہ دوسرے کو زخمی کردیا۔ پولیس آفیسر کامران کے مطابق ملزم کی جانب سے ٹیکسی کے عقب سے فائرنگ کی گئی۔ حملے کے بعد ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، ملزم کی فی الحال شناخت سامنے نہ آسکی۔

The police said an unidentified man opened fire from behind the vehicle. Photo: Samaa TV

حملے کے بعد زخمی دو افراد کو فوری طور پر سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں 50 سالہ نصیر حسین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج چل بسا، جب کہ 35 سالہ گل حسین اسپتال میں زیر علاج ہے۔

[caption id="attachment_1089702" align="aligncenter" width="676"] The vehicle was fired upon from behind. Photo: Samaa TV[/caption]

پولیس کے مطابق ٹیکسی میں موجود دیگر تین افراد حملے میں محفوظ رہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کے خول برآمد کیے گئے ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی متاثرہ افراد کے اہل خانہ اسپتال پہنچ گئے۔ اہل خانہ نے حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

 

مختلف حلقوں کی جانب سے بھی حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بلوچستان شیعہ کانفرنس اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ہزارہ برداری کی سیکیورٹی کیلئے حکومت سے مناسب اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی گئی۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے قلیل عرصے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں فورسز اورعام شہریوں سمیت اب تک 32 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، جب کہ درجنوں کو زخمی کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باجود تاحال کوئی ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔

ہزارہ برداری کے مطابق سیکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے باعث اب تک 70،000 سے زائد افراد کوئٹہ سے نقل مکانی کرچکے ہیں، جب کہ جان بچانے کیلئے کئی افراد نے بیرون ملک بھی پناہ حاصل کی ہے۔

 

سال 2008 سے اب تک خاص طور پر ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو چن چن کر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ صرف سال 2013 میں ہی 180 بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔ بدترین دہشت گردی کے واقعہ میں سانحہ اسنوکر کلب میں بھی 96 افراد لقمہ اجل بنے۔ اس حملے میں بھی ہزارہ برداری کے علاقے میں ہزارہ برداری کے افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب کہ سبزی منڈی دھماکا اور دیگر دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد الگ اور اس سے کئی زیادہ ہے۔

 

ایک اندازے کے مطابق ہزارہ برداری کی ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے سنی انتہا پسندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی کی جانب سے متعدد بار ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس کالعدم تنظیم کی جانب سے پیرا ملٹری فورس ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

 

سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے سال 2002 میں اس انتہا پسند تنظیم پر پابند عائد کی گئی تھی ، تاہم یہ تنظیم مختلف ادوار میں نام بدل بدل کر دیگر دہشت گرد اور انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔

HAZARA

quetta firing

Hazara man

targeted attack

Tabool ads will show in this div