قذافی بیٹے اوروزیردفاع سمیت ہلاک، تصویر جاری

اسٹاف رپورٹ

طرابلس: لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے کرنل قذافی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے البتہ سابق حکمراں کے حامیوں نے دعووں کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل ان کی شدید زخمی حالت میں گرفتاری کی خبریں آئی تھیں۔ قومی کونسل کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لیبیا کے سرکاری ٹی وی نے قومی عبوری کونسل کے عہدیدارعبدالماجد کے حوالے سے بتایا ہے کہ معمر قذافی کو سیرت سے شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

ان کی دونوں ٹانگیں بری طرح زخمی تھیں اور انھیں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو اور عبوری کونسل فورسز کے حملے میں  سابق وزیر دفاع ابو بکر یونس ہلاک ہوگئے۔

مخالفین نے قذافی حکومت کے ترجمان موسی ابراہیم، قذافی کے بیٹے اور انٹیلیجنس سربراہ کی گرفتاری کا بھی دعوی کیا ہے۔

عبوری کونسل کے اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہےکہ قذافی سیریت میں روپوش تھے اور ان کے آخری الفاظ تھے کہ گولی نہ چلاؤ۔

ادھر قذافی مخالف فورسز نے معمر قذافی کے آبائی شہر سیرت پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور یہاں قومی عبوری کونسل کا پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

نیٹو کے مطابق قذافی کی گرفتاری اور ہلاکت کی خبر کا جائزہ  لیا جارہا ہے لیکن معمر قذافی کے حامی ٹیلی وژن چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ کرنل قذافی زندہ ہیں اور ان کی گرفتاری کی خبر بھی بے بنیاد ہے۔ سماء

سمیت

جاری

nobel

stuck

crude

Tabool ads will show in this div