عرب دنیا میں تبدیلی کی لہرکا ایک اورشکار

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

کراچی: رواں سال کے آغازسے عرب ممالک میں پیدا ہونے والے حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ برسوں سے اقتدار پر براجمان حکمراں ایک کے بعد ایک روبہ زوال ہوئے۔

اب تک کن ممالک کے آمر عوامی تحریک کے آگے سرخم کرچکے ہیں۔

عرب ممالک میں رواں سال جنوری اور فروری میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس سے افریقی اور عرب ممالک کی آمر حکومتیں یکے بعد دیگرے گرتی چلی جا رہی ہیں۔

تبدیلی کی اس لہر کا آغاز شمالی افریقا کے ملک تیونس سے گزشتہ سال دسمبر میں ہوا جب بیروزگاری سے تنگ ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے خودکشی کرلی۔

اس کے ردعمل میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی جذبات کا جوالا مُکھی پھٹ پڑا اور عوام نے صدر زین العابدین کی تئیس سالہ حکمرانی ایک مہینے سے بھی کم وقت میں ختم کر دی اور وہ ملک چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔

تیونس میں کامیابی خطے کے عوام کے لئے روشنی کی کرن اور آمروں کے لئے زوال کا پیغام لے کر آئی۔

تیونس کی طرح مصر میں بھی عوامی تحریک نے سر اٹھایا۔ مظاہرین نے تیس سال سے صدارت پر براجمان  حسنی مبارک کی برطرفی کے لئے قاہرہ کے التحریر اسکوئر کو اپنا مرکز بنایا اور خطے کے مضبوط ترین حکمراں سمجھے جانے والے حسنی مبارک نے گیارہ فروری کو عوامی تحریک  کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔

دوسری جانب بحرین، شام اور یمن سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی آمر حکمران اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں اور قوت کا استعمال کر کے مخالفین کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان ممالک میں بھی تبدیلی کی لہریں تیزی سے پھیل رہی ہیں جن کا نتیجہ تیونس مصر اور لیبیا سے مختلف نظر نہیں آتا۔ سماء

میں

کی

ایک

iraqi

parliament

positions

Tabool ads will show in this div