کامران اکمل کو بخش دیں

تحریر: عدیل طیب

اس کائنات میں اللہ نے انسان کو اپنی تمام مخلوقات میں سب سے افضل قرار دیا ہے اور یہی نہیں بلکہ انسان کو عقل بھی دی ہے جس کا درست استعمال کرکے وہ کامیابی حاصل کرتا ہے۔ لیکن اگر یہی انسان اللہ کی عطا کردہ عقل کا استعمال نہ کرے تو انسان اور جانور میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ انسان کی عقل ہی ہے جو اس کو دوسری مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے اور اسکا درست استعمال ہی ایک دوسرے کا احترام اور عزت کرنا سیکھاتی ہے۔

چند روز قبل پاکستان سپر لیگ کا اختتام ہوا اور ایونٹ کا فائنل میچ کھیلنے والے تمام غیر ملکی کھلاڑی بحفاظت اپنے اپنے وطن کو لوٹ چکے۔ پی ایس ایل کا فائنل میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں تقریبا نو سال بعد منعقد ہوا جو کہ اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی کو دلچسپ مقابلے کے بعد شکست دی اور ایونٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ ایونٹ میں جس طرح تمام ٹیم کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کی بالکل اس طرح فائنل میں بھی بھرپور کوشش کی۔ میچ میں جن کھلاڑیوں کی قسمت کا ستارہ چمک رہا تھا انہوں نے چار چاند لگا دیئے لیکن بعض کھلاڑی چاہتے ہوئے بھی کچھ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور کرکٹ شائقین کی جانب سےشدید تنقید کا سامنا کرتے نظر آئے۔

کچھ ایسا ہی واقعہ پشاور زلمی کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کے ساتھ پیش آیا جن سے میچ کے اہم موقع پر اسلام آباد یونائیٹڈ کے بلے باز آصف علی کا کیچ چھوٹ گیا اور اسکے کچھ لمحے بعد آصف علی نے حسن علی کو تین چھکے لگا کر میچ کا نقشہ بدل دیا۔ کامران اکمل سے میچ کے اہم موڑ پر کیچ کا چھوٹ جانا ’’گناہ کبیرہ‘‘ ثابت ہوا اور کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپاہ کردیا۔ کسی نے کامران اکمل کو دانتوں سے کیچ پکڑنے کا مشورہ دیا تو کسی نے ’’کیچ خود پکڑ لو‘‘ کا پلے کارڈ دیکھایا۔ کچھ نے تو ’’میرا کیچ میری مرضی‘‘ جیسا مذاق لکھ کر بھی اڑایا۔ اسطرح کی کئی پوسٹیں سوشل میڈیا پر چلائی گئیں اور شائقین نے کامران اکمل کو قومی ٹیم میں شمولیت کے لئے غیرموضوع کھلاڑی قرار دے دیا۔ باقی کسر پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ نے بیان دے کر پوری کردی کہ ’’کامران اکمل کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی‘‘۔

کامران اکمل پر کی جانی والی غیرضروری تنقید مناسب نہیں تھی کیونکہ فائنل میں اگر کامران اکمل سے کیچ چھوٹا تھا تو وہی حسن علی نے عین موقع پر تین لگاتار چھکے کھا کر میچ کا اختتام کروا دیا تھا لیکن حسن علی شائقین کے نشانے سے محفوظ رہے۔ اور شکر ہے کہ بچ گئے۔۔!! کامران اکمل نے پورے ایونٹ میں شاندار کارکردگی دیکھائی اور سیمی فائنل میچ میں انکی سینچری کی بدولت ٹیم فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ جبکہ کامران اکمل کو پی ایس ایل 2018 میں سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے پر ایوارڈ بھی دیا گیا۔ پشاور زلمی کی بیشتر جیت پر انکا کلیدی کردار رہا۔

اب صورتحال میں اگر کامران اکمل کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکی کردار کشی کی جائے تو یہ بات قابل قبول نہیں۔ شائقین کو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ کرکٹ ایک کھیل ہے اور اس میں کب بازی پلٹ جائے معلوم نہیں ہوتا۔ کھلاڑی جان کر کیچ چھوڑتا ہے اور نہ آؤٹ ہوتا ہے، بلکہ یہ کھیل کا حصہ ہے۔ اسلئے اب کامران اکمل کو بخش دیں کیونکہ یہ کئی میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین کھیل پیش کر چکے ہیں۔ کھیل اپنی جگہ، عزت و احترام اپنی جگہ۔

Tabool ads will show in this div