پنجاب میں خطرناک حد تک پانی میں کمی

لاہور : پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ درياوں کي زمين پنجاب بنجر ہونے کے قریب ہے، پنجاب میں پانی کی کمی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاہور، لودھران، وہاڑی، خانیوال اور ملتان ميں زیر زمین نوے فیصد پاني ختم ہوگيا ہے، جب کہ باقي دس فيصد پاني ميں سنکھيا کي مقدار خطرناک حد تک زيادہ ہوگئي۔

پي سي آر ڈبليو آر کي دو سالہ تحقيق ميں اس بات کا انکشاف کيا گيا ہے کہ ميٹھا پاني تيزي سے کھارے پاني ميں تبديل ہورہا ہے جس سے پيٹ کي بيمارياں جنم لے رہي ہيں۔ خوشاب، جہلم، لیہ، جھنگ، سرگودھا اور فیصل آباد کا زير زمين پاني پينے کے قابل ہي نہيں رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاني بيچنے والي بڑي کمپنياں بھي زير زمين پاني کو ميٹھا کر کے بيچ رہي ہيں، جس ميں کسي ضابطے کو خاطر ميں ہي نہيں لايا جاتا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سيوريج اور صنعتي فضلہ دريائے راوي ميں پھيکے جانے سے آکسيجن ختم ہونے لگي جس سے آبي حِيات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے مابین آبی ذخائر پر بھی مذاکرات جمعرات سے نئی دہلی میں شروع ہو رہے ہیں، جس میں پاکستان وفد کي قيادت قائم مقام انڈس واٹر کمشنر مہر علي شاہ کریں گے۔ وزارت پانی کے مطابق مذاکرات میں رتلے، لوئر کلنائي، پکل دل کے متنازع منصوبوں پر بات ہوگي۔

PUNJAB

MINERAL WATER

Water crisis

health issue

POLLUTION

drinking water

Swerage water

Tabool ads will show in this div