آج فیصلے میرے نہیں ’’ان ‘‘ کے ہاتھ میں ہیں

اسلام آباد:سابق وزیراعظم نواز شریف نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں آصف زرداری کے خلاف میمو گیٹ کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے تھا ۔ کہتے ہیں آج فیصلے میرے ہاتھ میں نہیں "اُن"کے ہاتھ میں ہیں۔ انتخابات میں ایک منٹ کی بھی بھی تاخیر نہیں چاہیے۔چوہدری نثار کو پارٹی سے نکالنے سے متعلق سوال گول کر گئے۔

احتساب عدالت میں نیب ریفرنس کی سماعت کے بعد نواز شریف کے مختلف انداز دیکھنے میں آئے۔ مخالفین پر تنقید کیسا تھ ماضی میں غلطیوں کا اعتراف بھی کیا۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ انہیں زرداری کے خلاف میموگیٹ اسکینڈل سے دور رہنا چاہیے تھا۔ یہ بھی واضح کیا کہ انتخابات میں ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں چاہتے۔ ایمپائر کی انگلی کی طرف نہیں دیکھیں گے۔

نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نگراں وزیراعظم کے معاملے پر وزیراعظم کیساتھ ایک دوبار بات ہوئی ہے۔معانی خیز انداز میں یہ بھی کہہ دیا کہ آج فیصلے میرے نہیں "اُن"کے ہاتھ میں ہیںسسابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہوں ۔ میرے خلاف یلغار کی وجہ یہی ہے۔ سگنل لینے والا آدمی نہیں، جمہوریت کیلئے قیمت ادا کی اور کر رہے ہیں ادا کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے انٹرویوز اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصروں کا تذکرہ کرتے ہوئے بولے کہ کہا سوال اُٹھ رہے ہیں کہ یہ سب کون کر رہا ہے۔ نواز شریف نے پرویز مشرف کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب سمیت آمر کے بنانے قوانین ختم کر دینے چاہییں ۔ بولے کہ 2002 کے الیکشن سے پہلے نیب کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا۔ آئندہ بھی یہی خدشہ ہے۔

مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما اورسابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کو پارٹی سے نکالنے سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ آپ مشرق سے مغرب کی طرف جا رہے ہیں۔

PML N

elections 2018

National Accountability Bureau

dictators

2002 elections

Mir Zafarullah Khan Jamali

Tabool ads will show in this div